حیاتِ خالد — Page 318
حیات خالد فلسطين 317 بلاد عر بیہ میں تبلیغ اسلام فلسطین، اسلام اور عیسائیت اور یہودی مذہب کی تاریخ میں ایک نہایت ہی عظیم الشان مقام ہے اور ان تینوں قوموں کی تاریخ کو اس ملک کے ساتھ بہت بڑا لگاؤ ہے۔اس وقت بھی عربی ممالک بلکہ تمام مشرق کی سیاست کا ایک بڑا مرکز فلسطین ہے۔یہودی قوم کا نشو و نما فلسطین کی پہاڑی زمینوں میں ہوا۔اس زمین میں یہ قوم بڑھی اور تنومند ہوئی۔پھر اس زمین کے چپہ چپہ پر ان کے خون کی ندیاں بہیں اور لاشوں کے انبار اور تو دے لگ گئے۔ایک دفعہ نہیں ، دو دفعہ نہیں متعدد بار مقدس ہیکلیں لوٹی گئیں اور جلائی گئیں اور بستیوں کی بستیاں الٹ دی گئیں۔پھر عیسائیت کا دور آیا اس دور میں بھی کوئی کم خون نہ گرا۔پھر اسلام کے مقابل میں صلیبی جنگوں نے وہ مہیب صورت پیدا کی کہ الامان والحفیظ۔گزشتہ زمانوں کو چھوڑ کر اب موجودہ زمانے میں ایک طرف سیاست کا ایک بہت بڑا دانگل فلسطین میں لگ رہا ہے۔دوسری طرف وہ مذہبی دنیا کا مرکز بن رہا ہے۔یہود ایک دفعہ پھر اپنی ساری طاقت کے ساتھ فلسطین پر چھا جانا چاہتے ہیں اور مسلمانوں کے قبضے سے ایک ایک انچ زمین چھین لینے کی فکر میں ہیں۔دوسری طرف برطانوی مستعمرین اس مذہبی مرکز میں بیٹھ کر ایک طرف یہود کو اپنے قبضے میں کرنے کی فکر میں ہیں۔دوسری طرف حیفا میں عظیم الشان بندرگاہ قائم کر کے نہ صرف برطانوی مال تجارت کے لئے ایک جدید منڈی پیدا کرنا چاہتے ہیں بلکہ ارد گرد کے علاقہ کی تجارت پر بھی قبضہ کر لینا چاہتے ہیں۔موصل کے تیل کے چشموں پر اندرون ارض پائپ لگا کر فلسطین سے ان کا تعلق پیدا کر کے اس معرکۃ الآراء جھگڑے کا خاتمہ کر دینا چاہتے ہیں جوٹر کی اور عراق کے درمیان ایک عرصہ سے جاری ہے اور اس طرح عراقی سیاسیات میں اپنا دخل قائم رکھنے کی صورت پیدا کر رہے ہیں۔یہی نہیں بلکہ فلسطین میں اپنی فوجی قوت کے قیام سے ارد گرد کے سارے علاقے پر اپنا سکہ جمانے کی صورت پیدا کر رہے ہیں۔یہ تو ہوا موجودہ سیاست کا خفیف ساچہ بہ۔مذہبی دنیا میں فلسطین یہود اور مسیحی اقوام کا تو پہلے سے مرکز تھا۔اسلام نے بھی اس مقام کی کوئی کم بندگی اور احترام نہیں رکھا اس لئے آج اس گئے گزرے مقام کی کم رکھا زمانے میں بھی مسلمانوں کیلئے بیت المقدس کی آواز ایک طاقت رکھتی ہے۔ان تمام حالات پر اگر نظر ڈالی جائے تو فلسطین کی اہمیت کا پتا لگ جاتا ہے۔ایسے مقام پر سلسلہ کے مشن کا قائم ہونا کوئی معمولی کام نہیں۔سینکڑوں گرجے ہزار ہا پادری اور راہب پوری عظمت سے