حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 885 of 923

حیاتِ خالد — Page 885

حیات خالد 866 گلدستۂ سیرت روشن علی صاحب کے ساتھ جماعتی جلسوں میں، مباحثوں میں آپ شامل ہوئے۔اس طرح عملی ٹرینگ کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پھر توفیق دی کہ بعد میں بڑے بڑے اہم جلسوں میں ایک عظیم خطیب اور مقرر کی حیثیت سے شامل ہوئے اور سامعین کو اپنے خطاب سے مسحور کرتے۔یہ خوبی تھی کہ ہر بات ٹو دی پوائنٹ بیان کرتے۔وقت کے اندر اپنی تقریر و بحث ختم کرتے۔حضرت مولا نا صرف ایک عظیم خطیب اور مقرر ہی نہ تھے بلکہ ایک منجھے ہوئے مصنف اور محقق بھی تھے۔اللہ تعالی نے آپ کو خاص توفیق دی بالخصوص اپنے سفروں میں ، خواہ یہ سفر کوئٹہ کا ہو یا ایران کا ہو یا کشمیر کا لندن کا یا مری کا۔ہر سفر میں کوئی نہ کوئی اہم تصنیف آپ کے قلم سے نکلتی رہی۔تفہیمات ربانیہ آپ کی ایسی ہی ایک ضخیم تصنیف ہے۔جو مری میں لکھی گئی۔بہائیوں کے خلاف دلیل رسائل کچھ کشمیر میں اور ایران میں لکھے گئے۔اسی طرح بعض کتب آپ نے کو ئٹہ کے سفر میں لکھیں۔آپ کا سفر اگر چہ گرمیوں کی شدت کی وجہ سے سرد مقام پر جانے کا ہوتا تھا لیکن ساتھ یہ نیت ہوتی کہ نرم موسم میں دینی خدمت ہو اور بفضل خدا وہ اپنی اس نیت کے مطابق کچھ نہ کچھ تصنیف کے میدان میں اضافہ کرتے رہے۔ہر ماہ رسالہ الفرقان کی ادارت اس میں مضامین کی صرف ترتیب کا فریضہ ہی انجام نہ دیتے بلکہ خود بھی علمی مضامین لکھتے۔علمی نوٹس لکھتے۔تیرے لکھتے۔علاوہ روز مرہ کے دفتری کاموں اور انجمن کے عائد کردہ فرائض کے یہ زائد خدمت ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ان کا گھر اور سونے کا آسمرہ رسالوں کی ایک خاص نمائش گاہ تھی۔ہر قسم کے رسالے منگواتے۔انہیں پڑھتے۔دینی مسائل پر جب بھی جہاں بھی تنقید، تائید یا تردید کی ضرورت ہوتی ان کے متعلق خدا داد قابلیت سے خوب لکھتے اور داد پاتے۔الفرقان رسالہ کے لئے خود ہی سب کچھ نہ کرتے بلکہ اپنے ساتھیوں اور دیگر علما ء کو بھی ترغیب دیتے اور ان سے بھی کہ کر اور بعض اوقات ان کے اچھے لیکچروں، درسوں کا علم پا کر لکھواتے منگواتے اور شائع کرتے۔ان کے رسالہ الفرقان کے فائل اس حقیقت کے گواہ اور شاہد ناطق ہیں۔عاجز کو یاد ہے نظارت اصلاح وارشاد نے خاکسار کی رمضان المبارک میں ایک سال لاہور میں درس کی ڈیوٹی لگائی۔ایک خاص دن مقرر تھا۔خاکسار نے سورہ رحمن کا درس دیا۔لاہور کی جماعت کی بہت بڑی تعداد شامل تھی۔حضرت قاضی محمد اسلم صاحب بھی اس درس میں شامل تھے۔دوسرے دانشور بھی۔خاکسار کے درس کا بفضل خدا ایک خاص اثر ہوا اس کے مقبول ہونے اور مؤثر ہونے کی خبر حضرت مولا نا تک بھی پہنچی۔یہ حقیقت ہے کہ میرے پیچھے پڑ گئے۔عرض کیا صرف نوٹس تھے زبانی درس