حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 870 of 923

حیاتِ خالد — Page 870

حیات خالد 851 گلدستۂ سیرت خلیفہ وقت اگر ربوہ میں موجود ہوں اور جمعہ پڑھانے تشریف نہ لا سکیں تو شدید خلا لگتا تھا ایسے موقعوں پر جن خاص لوگوں کو مسجد اقصیٰ ربوہ میں جمعہ پڑھانے کیلئے حضور مقرر فرماتے ان میں حضرت مولانا ابو العطاء صاحب بھی شامل تھے۔آپ کی وفات پر حضرت خلیفہ المسح الثالث نے جس انداز سے خطبہ ارشاد فرمایا۔وہ انداز میرے کانوں میں آج بھی گونجتا ہے۔یہ فقرہ بڑے پیار سے فرمایا کہ: انہوں نے خدائے رحمن سے کبھی منہ نہیں موڑا اس خطبہ نے حضرت مولانا کی بزرگی کو چار چاند لگائے۔یعنی ہم پر ان کا مقام مزید کھلا۔محبت نے مزید ترقی کی۔حضرت مولانا کے چہرے کی ایک خاص وجاہت تھی جس سے مسکراہٹ اور وجاہت و بزرگی ایمانی نور کی کیفیت کا اظہار ہوتا۔میری ڈائری کے مطابق حضرت مولانا فروری ۱۹۷۲ء میں میرا بھڑ کا آزاد کشمیر تشریف لے گئے اور حضرت خلیفہ اصبح الثالث کے تین پیغامات جماعت کو دیئے۔ا۔اس دفعہ جلسہ سالانہ نہیں ہوگا۔۲۔دوست میری صحت کیلئے دعا ئیں کریں۔۳۔ملکی سلامتی کیلئے دعائیں کریں۔جب حضرت مولانا وہاں تشریف لے گئے تو ایک عورت نے آپ کی روحانی شخصیت سے متاثر ہو کر مجھ سے سوال کیا کہ کیا یہ حضور ہیں؟ جس پر میں نے سمجھایا کہ یہ حضور نہیں مگر بہت بڑے بزرگ اور حضور کے مقرب ہیں۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کی تقریر میں کئی باتوں کا امتزاج ہوتا تھا۔یہ ظاہر ہوتا شیریں بیانی تھا کہ بہت بڑا بزرگ بول رہا ہے۔بہت بڑا عالم خطاب کر رہا ہے۔خطاب میں تسلسل اور روانی ہوتی تھی اور بہت زیادہ شیر ہی ہوتی تھی۔مسجد مبارک میں بہت پر لطف اور مؤثر درس القرآن رمضان میں دیتے۔ایک موقع پر دوران درس کسی آیت قرآنی کی تشریح میں فرمایا کہ جو مبلغ تہجد پڑھتے ہیں ان کی زبان میں اثر ہوتا ہے اس پر میرا تاثر یہ تھا کہ حضرت مولانا کے خطاب کا اثر بھی آپ کی تہجد کی دعاؤں سے ہے۔ایک دفعہ آپ ہوٹل جامعہ احمدیہ میں تشریف لائے اور وصیت کی اہمیت پر ایسے انداز میں خطاب فرمایا کہ میں نے اور بہت سے طلباء نے اسی اثر کے تابع نظام وصیت میں شمولیت کی۔