حیاتِ خالد — Page 871
حیات خالد 852 گلدستۂ سیرت حضرت مولانا ایک مرتبہ ہی میرا بھڑ کا تشریف لے گئے یہ ایک بڑی ذاتی شفقت۔حافظہ جماعت تھی۔میرے لئے خوشی اور حیرت کی بات ہے کہ اس کے بعد میں ایک دفعہ آپ کو ربوہ میں ملا تو آپ نے مجھے بہت شفقت سے فرمایا کہ کیا آپ اس بستی کے رہنے والے ہیں جو جھیل کے کنارہ پر ہے۔اس سے حضرت مولانا کی یادداشت پر بھی روشنی پڑتی ہے۔اور پھر مجھے بڑی شفقت کی نظر سے دیکھا اور پیار کیا۔یہ شفقت بھرا انداز آج بھی میرے ذہن پر نقش ہے۔خدا رحمت کند این عاشقان پاک طینت را حضرت مولانا کے شاگر د مکرم مولا نا محمد دین صاحب مرحوم مربی سلسلہ آف بستی رنداں ضلع ڈیرہ غازیخان آپ کے بارہ میں اٹھائیس سالوں پر محیط یادوں کو اختصارا یوں تازہ کرتے ہیں :- حضرت مولانا سے میری اولین ملاقات ۱۹۴۸ء میں جامعہ احمد یہ احمد نگر میں ہوئی۔آپ کے مقام قافی اللہ نے مجھ پر گہرا اثر کیا اور آپ سے گہری محبت میرے دل میں ایک میخ کی طرح گڑ گئی۔مجھے خوب یاد ہے جب ڈیرہ غازیخان میں رات کو آپ کی تقریر کے دوران مخالف ہمسایوں نے آپ پر گند گرانے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو محفوظ رکھا۔آپ کا صبر وشکر دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔آپ نے حاضرین سے فرمایا کہ ان لوگوں کیلئے دعا کریں کہ خدا سے دعا کا ہتھیار ہی ایسے لوگوں کو راہ راست پر لا سکتا ہے۔آپ کے اس پاک نمونہ کا اس قدر گہرا اثر ہوا کہ دوسرے روز کے جلسہ میں استاذی المکرم کی عاجزی و انکساری دیکھ کر کئی شریف الطبع غیر احمدی دوست بے اختیار یہ کہہ اٹھے کہ یہ تو اس دنیا کا آدمی نہیں۔یہ تو آسمان سے اتر آنیوالا کوئی فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔استاذی المکرم کے ساتھ یہ خاکسار بھی عبدالرحیم صاحب اشرف سے ملاقات عبدالرحیم صاحب اشرف مدير المعبر سے ملنے فیصل آباد گیا۔خاکساران دنوں سندھ میں تعیناتی کی بناء پر خالصتاً سندھی لباس پہنے ہوئے تھا۔ابتدائی احوال پرسی کے بعد اشرف صاحب نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت مولانا سے طنزیہ رنگ میں پوچھا کہ آپ نے اس کو کب سے ” پکڑا ہے؟ آپ نے فرمایا اسی سے پوچھ لیں۔چنانچہ خاکسار نے اشرف صاحب کو جواب دیا کہ میرے پڑدادا حضرت احمد دین صاحب نے ہمارے گھرانہ میں سب سے پہلے حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی بیعت کی سعادت حاصل کی۔اس لحاظ سے اب ہماری چو تھی نسل احمدیت کی برکات سے مستفید ہو رہی ہے۔چنانچہ وہ میرے اعتماد اور برجستگی سے دم بخود ہو گئے۔