حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 869 of 923

حیاتِ خالد — Page 869

حیات خالد 850 گلدسته سیرت آئے تو افسوس کے الفاظ ان سے ادا ہی نہیں ہو رہے تھے اور اتنے بڑے بزرگ بندے کو اس طرح تڑپ تڑپ کر اور پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے دیکھ کر بے حد حیرانگی ہورہی تھی کہ ان کو بھی اتنا غم ہے۔کتنے ہی سال آپ کی وفات کو ہو گئے ہیں اور ان کی یادیں اسی طرح زندہ ہیں جیسے یہ کوئی کل ہی کی بات ہو۔آپ کے بارے میں لکھنے کے لئے بے حد اہمت اور حوصلہ پیدا کرنا پڑا ہے کہ غم پھر سے پڑا تازہ ہو جاتا ہے۔میں دعا کی درخواست کے ساتھ ختم کرتی ہوں کہ اس خالد احمدیت نے جو دین سے پیار کی شمع روشن کی تھی اللہ تعالٰی ہمارے والدین، ہمیں اور ہمارے بچوں کو توفیق دے کہ اس شمع کو ہم ہمیشہ روشن رکھنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کی روح تک خوشی کی خبریں پہنچائے اور ان کے نام کو ہمیشہ زندہ رکھنے والے ہوں۔آمین ثم آمین۔0 مکرم مولا نا فضل احمد شاہد صاحب مربی سلسلہ لکھتے ہیں :- حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل جالندھری ان بزرگان میں سے ہیں جن کے بارہ میں میرا ذاتی تاثر یہ ہے کہ وہ جماعت احمدیہ کے افراد کے لئے جسمانی اور روحانی اور علمی لحاظ سے شفیق باپ کا مقام رکھتے تھے اس سلسلہ میں چند بکھری یادیں پیش خدمت ہیں۔حضرت مولانا کو جماعت احمدیہ سے محبت اور پیار کا جماعت سے قربت کا تعلق اور مقام اور مقام گہرا تعلق تھا۔جس کا اظہار کئی واقعات سے ہوتا ہے اور جماعت بھی ان سے گہری محبت رکھتی تھی۔چند مثالیں تحریر ہیں۔میرا بھڑکا میر پور شہر سے قریباً دوکلو میٹر ہے۔حضرت مولانا وہاں تشریف لے گئے بڑھاپے کی عمر میں تھے پھر ایسے بزرگوں کو لوگ گاڑیاں بھی مہیا کر دیتے ہیں مگر حضرت مولانا جماعت احمد یہ میرا بھڑکا کی دلداری کی خاطر گاؤں سے پیدل چل کر میر پور تشریف لائے۔مجھے خوب یاد ہے کہ جماعت کا ایک بڑا حصہ آپ کو الوداع کرنے شہر تک پیدل آیا جن میں یہ خاکسار بھی تھا۔میں اس وقت بچپن کی عمر میں تھا۔حضرت مولانا نے حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی وفات کے ایک ہفتہ بعد وفات پائی مگر مجھے یاد ہے جماعت کو آپ سے اتنی محبت تھی کہ جماعت کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے مختلف اطراف سے ریوہ آیا اور جنازہ میں شریک ہوا۔جب آپ کا جسد خاکی اٹھایا گیا تو میں نے یہ بھی دیکھا کہ ایک شخص نے بڑی عقیدت سے اپنے چھوٹے بچے کو اوپر اٹھایا تا وہ حضرت مولانا کے تابوت کو ہاتھ لگا سکے۔