حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 828 of 923

حیاتِ خالد — Page 828

حیات خالد 817 گلدستۂ سیرت کے سب بچے ماشاء اللہ شادی شدہ اور صاحب اولاد ہیں پھر بھی جو اہم کام کرنا ہوتا ابا جان سے ضرور پوچھتے۔آپ ہمیشہ دعا اور استخارہ کے بعد کوئی قدم اٹھاتے۔آپ کو یوں تو سب پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے بہت محبت تھی لیکن مجھے لگتا تھا کہ میرے بچوں سے آپ کو کچھ زیادہ ہی پیار تھا۔اس کی یہ بھی وجہ ہو سکتی ہے کہ ان بچوں کو آپ کے پاس رہنے کا خوب موقعہ ملا اس طرح ان بچوں نے وافر حصہ آپ کی شفقت و محبت کا حاصل کیا۔جب میری پہلی بچی عزیزہ امتہ الواسع بشری کی پیدائش ہوئی تو میں اپنے والدین کے پاس راولپنڈی تھی۔آپ کو جب بچی کی پیدائش کی خوش خبری ملی تو آپ بنفس نفیس را ولپنڈی تشریف لائے اور بچی کو دیکھتے ہی فرمایا۔یہ بچی بہت ذہین ہوگی۔جیسا کہ آپ نے فرمایا وہی بات صحیح ثابت ہوئی۔جب میں نے اسے سکول میں داخل کروایا تو مسلسل چھٹی جماعت تک یہ بچی اپنی کلاس میں اول آتی رہی۔جامعہ احمدیہ سے فارغ ہو کر میرے میاں عطاء الکریم صاحب شاہد کا تبادلہ بطور مربی کئی شہروں مثلا مظفر آباد، مری ، کیمبل پور ( حال اٹک ) اور گجرات ہوتا رہا۔ہم جس جگہ بھی رہے ابا جان ضرور ہمارے پاس تشریف لاتے رہے۔کبھی جماعتی دوروں کے دوران خواہ چند گھنٹوں کا قیام ہی ملتا ضرور ہمارے پاس آتے۔سب حال احوال پوچھتے۔بچوں سے ملتے اور بے حد خوش ہوتے۔ادھر بچے بھی اپنے بڑے ابا جان کی آمد کی خبر سن کر مجسم انتظار بن جاتے۔ایک بار جب ہم کیمبل پور ( حال اٹک ) میں تھے۔آپ کو ہمارے پاس صرف ایک رات قیام کا موقع ملا۔بچے آپ کی آمد سے بے انتہا خوش تھے۔میرا چھوٹا بیٹا عزیز عطاء الا علی اس وقت قریباً اڑھائی سال کا تھا۔آپ صحن میں چار پائی پر تشریف فرما تھے۔اس نے اپنی خوشی کا اظہار ایک انوکھے مگر معصومانہ طریقے سے کیا۔پریٹر گر کا ربڑ آپ کے گلے میں ڈال دیا اور خوشی سے آپ کی چار پائی کے قریب اچھلنا شروع کر دیا کہ بڑے ابا کتنے پیارے لگ رہے ہیں۔آپ اپنے پوتے کی اس معصوم شرارت سے اتنے محظوظ ہوئے کہ میرے منع کرنے پر کہ بڑوں کے ساتھ ایسے نہیں کیا کرتے۔آپ نے مجھے منع کیا کہ نہیں رہنے دو۔میرا ہو نا خوش ہورہا ہے اسے اپنی خوشی پوری کرنے دو۔اس سفر کے دوران آپ کے پاس ایک چھوٹا سا سبز رنگ کا لوٹا تھا۔میرے بیٹے کو یہ لوٹا بہت اچھا لگا۔ہاتھ میں لوٹا اٹھائے آپ کی چار پائی کے گرد چکر لگاتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا۔” بڑے ابا یہ لوٹا میرا ہوتا جاتا ہے۔آپ بہت ہنسے، فرمانے لگے۔” بچے اس وقت تو یہ لوٹا آپ کا ہی ہے۔جب جاؤں گا تو پھر یہ میرا ہو جائے گا۔اگلے دن صبح سویرے جب آپ روانہ ہونے