حیاتِ خالد — Page 827
حیات خالد 816 گلدسته سیرت مولانا کی مہمان نوازی کے بارے میں اپنے مضمون مطبوعہ الفضل میں بظاہر ایک دو جملے لکھے ہیں لیکن فی الحقیقت حضرت مولانا کی اس خداداد صفت کو واضح کرنے کیلئے یہ ایک جملہ کئی تحریروں پر بھاری ہے۔محترم مرزا عبدالحق صاحب لکھتے ہیں:- اللہ تعالی نے آپ میں بہت سی خوبیاں رکھی تھیں۔بہت با اخلاق۔ہر چھوٹے بڑے سے پیارو محبت سے پیش آتے۔بہت مہمان نواز کھینچ کھینچ کر اپنے گھر لے جاتے اور تواضع کرتے"۔اقرباء سے حسن سلوک روزنامه الفضل ربود ۲۷ جون ۱۹۷۹ صفحه ۵ کالم نمبر ۲) اقرباء سے حسن سلوک اسلام کی اہم تعلیم ہے۔حضرت مولانا ابوالعطاء 21 صاحب بفضلہ تعالیٰ اس اہم خلق پر پوری طرح عامل تھے۔حضرت مولانا کو اللہ تعالیٰ نے ایک محبت بھر ادل عطا کیا تھا۔اس میں محبت کا جو خزانہ چھپا ہوا تھا وہ اپنے اعزہ واقرباء کی محبت میں بے دریغ لٹاتے تھے۔آپ کے اپنے اعزہ واقرباء سے حسن سلوک کی چند دلکش مثالیں پیش خدمت ہیں۔محترمہ امتہ الباسط شاہد صاحبہ بیگم محترم عطاء الکریم صاحب شاہد کی تحریر میں سے چند حصے ملاحظہ فرما ئیں۔آپ لکھتی ہیں :- آپ اپنی انتہائی دینی مصروفیات کے باوجود اپنے اہل خانہ سے کبھی غافل نہیں ہوئے۔گھر کی ایک ایک ذمہ داری کو اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔گھر والوں کو کبھی یہ احساس نہ ہونے دیا کہ سب اخراجات کہاں سے پورے ہوتے ہیں۔جس چیز کی ضرورت کا احساس گھر والے کرتے اسی وقت وہ چیز گھر بھجوا دیے۔نہ صرف اپنوں کا خیال رکھا بلکہ عزیز واقارب کو بھی کبھی فراموش نہ کیا۔ہر مشکل میں ان کا ساتھ دیا۔آپ کا آخری دم تک یہ دستور رہا کہ ہر عید کے موقع پر اپنے گھر کے علاوہ اپنے بہن بھائیوں کو عیدی ضرور بھیجتے۔آپ اپنے بیوی بچوں، بہوؤں ، پوتوں، پوتیوں اور نواسے نواسیوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔گھر آتے تو ہر ایک کا حال باری باری پوچھتے کوئی چیز لاتے تو اسی وقت محترمہ امی جان کے سپرد کرتے ہوئے فرماتے کہ سب کو تقسیم کر دو۔بچوں کو اکثر بٹوا نکال کر پیسے دیا کرتے اور بچوں کی خوشی پر بے حد خوشی محسوس کرتے۔اگر کوئی بات پسند نہ آتی تو نرمی سے سمجھا دیا کرتے۔آپ کا بابرکت وجود گھر میں ایسا تھا کہ قدم قدم پر آپ کے بیٹوں اور بیٹیوں کو آپ کی رہنمائی کی برکت عطا ہوتی۔گو کہ آپ