حیاتِ خالد — Page 829
حیات خالد 818 گلدسته سیرت 22 لگے تو میں نے لوٹا آپ کے سامان میں رکھنا چاہا۔تو فرمایا ر ہنے دو۔اب یہ میرے پوتے کا ہو گیا ہے۔ربوہ پہنچنے پر آپ نے جو خط لکھا اس کے آخر پر یہ فقرہ لکھا۔سبز لوٹے والے کو میرا بہت بہت پیار۔آپ جب اپنے بیٹے عطاء الکریم صاحب شاہد کو لائبیریا روانگی کیلئے رخصت کرنے لگے تو انہیں گلے لگا کر گردن پر بوسہ دیا اور اشکبار آنکھوں سے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مجھے تمہیں واپس آتا بھی دکھائے۔اپنے جانے کے بعد عطاء الکریم شاہد صاحب نے اپنا ایک پیغام لائبیریا سے ٹیپ کر کے بھجوایا تو ہم سب کو اپنے کمرے میں بلایا کہ سب بیٹھ کر سن لیں۔اپنے بیٹے کی آواز سن کر فرط محبت سے آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔شاید انہیں یہ احساس تھا کہ وہ آخری بار بیٹے کی آواز سن رہے ہیں۔اتنے جیالے بہادر اور دوسروں کو حوصلہ دلانے والے شفقت پدری سے لبریز ہو کر اپنے آنسوؤں پر قابو نہ پاسکے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کو اپنے بچوں سے کس قدر محبت تھی۔جن دنوں میرے میاں عطاء الکریم صاحب شاہد لائبیریا میں تھے۔ہمارا جلسہ سیرۃ النبی ہے مسجد مہدی میں منعقد ہوا جس میں شامل ہونے کیلئے میں اور میری بیٹی امتہ الواسع مسجد میں گئیں۔میری بیٹی چلتے وقت اپنی قیمتی سنہری سینڈل پہن کر آگئی۔جلسہ کے اختتام سے تھوڑی دیر پہلے مجھے ضروری کام کی وجہ سے جلد گھر آنا پڑا۔جلسہ ختم ہونے کے بعد جب بچی جوتی پہننے کے لئے باہر آئی تو اس کی قیمتی اور خوبصورت جوتی نہ ملی۔وہ بہت گھبرائی۔اتنے میں اس نے اپنے بڑے ابا جان کو دوسرے علماء کے ساتھ باہر جاتے دیکھا تو دوڑ کر آواز دی۔آپ جلدی سے اس کے پاس آئے۔تو اس نے بتایا کہ میری جوتی کھو گئی ہے۔فوراً فرمایا۔بچڑا آؤ میرے ساتھ۔جوتی کھو گئی تو کیا ہوا۔ہم اپنی پوتی کو اسی طرح کی اور جوتی لے دیتے ہیں۔چنانچہ اسی وقت تانگہ لیا اور بچی کو اس میں بٹھا کر جوتوں کی اسی دکان پر لے گئے اور دوکان دار کو فرمایا۔میری پوتی کی جوتی گم ہو گئی ہے۔اسے اسی طرح کی اور جوتی دے دو جس طرح کی جوتی کھوئی ہے۔پھر نئی جوتی پہنا کر میری بیٹی کو تانگے میں گھر چھوڑ کر گئے میری بچی آج تک یہ واقعہ یاد کر کے آبدیدہ ہو جاتی ہے۔ایک بار میرے بڑے بیٹے عطاء الحبیب خالد نے نہایت چھوٹی عمر میں ایک چابی والے کھلونے کی مشین لے کر اس سے ہیلی کاپٹر بنالیا اور اپنے بڑے ابا جان کو چلا کر دکھایا۔وہ اسے دیکھ کر اس قدر خوش ہوئے کہ فرمایا۔عطاء الحبیب کو سائنس دان بنانا اور پھر اسے پانچ روپے انعام دیئے۔آج جب کہ ہمارے نہایت شفیق اور مہربان ابا جان ہم میں نہیں ہیں تو ان کی تمام دعا ئیں ہمارے بچوں کے حق میں