حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 753 of 923

حیاتِ خالد — Page 753

حیات خالد 742 گلدستۂ سیرت میں بارہا آپ اپنے قابل اور دیندار شاگردوں کا ذکر بڑی محبت سے کیا کرتے تھے اور ان کی کامیابیوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کیلئے دعا کیا کرتے تھے۔کبھی اس بات کی خواہش نہ کرتے کہ کوئی شاگرد آپ کی خدمت کرے بلکہ آپ ان کی خدمت اور عزت افزائی کرنے میں خوشی محسوس کیا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کو سعادت مند اور خدمت گزار شاگردوں کا بہت ہی وسیع حلقہ عطا ہوا تھا اور یہ محبت بھرا تعلق زندگی کے آخر تک جاری رہا بلکہ آپ کے وصال کے بعد بھی آپ کے شاگرد جس محبت اور اکرام سے ملتے ہیں وہ ہر قدم پر حضرت ابا جان کی یاد دلاتی ہے جن کی یاد آج بھی آپ کے شاگردوں کے دلوں میں زندہ ہے اور بعض تو ایسے ہیں کہ حضرت ابا جان کا ذکر کرتے ہیں تو آنکھیں نمناک ہو جاتی ہیں اور جذبات سے بے قابو ہو جاتے ہیں۔یہ سب اس محبت و شفقت کا نتیجہ ہے جو آپ کے دلوں میں اپنے سب شاگردوں کے لئے تھی۔مجھے یاد ہے کہ جب آپ کی صحت کمزور تھی اور آپ بحالی صحت کے لئے کوٹلی گئے تو محترم مولانا محمد الدین صاحب نے جس طرح والہانہ محبت بھرے انداز میں دن رات آپ کی خدمت کی اس پر آپ کا دل محبت اور پیار سے لبالب بھر جاتا تھا اور آپ کے دل کی گہرائیوں سے ان کے لئے دعائیں نکلی تھیں۔جزاء الله احسن الجزاء - مکرم شیخ محمد یونس شاہد صاحب مربی سلسلہ رقم فرماتے ہیں :- ایک بار جب کہ میں جامعہ احمدیہ کا طالب علم تھا اور پیدل سفر ۲۵ میل کر رہا تھا۔میں یہ سفر ختم کرنے والا تھا کہ چنیوٹ سے چند میل دور حضرت مولانا موصوف کار میں لاہور سے آتے ہوئے میرے قریب آ کر ر کے میں نے سلام کیا تو مولانا نے فرمایا کیا حال ہے؟ میں نے عرض کیا الحمدللہ میں ٹھیک ہوں۔فرمایا ناشتہ تو نہیں کیا ہو گا؟ میں نے کہا نہیں۔آپ کے ہمراہ آپ کے صاحبزادے مکرم عطاء الجيب صاحب راشد بھی تشریف فرما تھے۔آپ نے ان کو ارشاد کیا کہ اس کو کافی سارے کینو اور مالٹے دے دو۔چنانچہ انہوں نے اتنے زیادہ دیدئیے کہ میری قمیض کی جھولی او پر تک بھر گئی۔اور خاکسار نے سڑک کے کنارے بیٹھ کر کینو اور مالٹے کھائے۔فالحمدللہ۔آپ کا وجود میرے لئے رحمت بن کر آیا کیونکہ مجھے اس وقت سخت بھوک لگی ہوئی تھی۔محترم مولانا عطاء اللہ کلیم صاحب مرحوم سابق مبلغ انچارج غانا، امریکہ، جرمنی و فلسطین لکھتے ہیں :- طلبہ سے حضرت مولانا موصوف کا سلوک اور رویہ پدرانہ شفقت کی مکمل تصویر تھا۔آپ ان