حیاتِ خالد — Page 754
حیات خالد 743 گلدسته سیرت کے لئے مجسم دعا ہوتے تھے۔آج کل ٹیوشنز کا بھوت لوگوں پر سوار ہوتا ہے اور بہت ہی کم ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ اللہ کوئی کسی کی تعلیم میں مدد کرے۔مگر اس عاجز کو یاد ہے کہ جب خاکسار کی مدرسہ احمدیہ قادیان کی آخری کل اس کے طلبہ نے آپ سے عربی ادب کی ایک کتاب پڑھانے کے التماس کی تو آپ نے بخوشی اس خدمت کو اختیار کیا اور بڑی محبت اور پیار سے بغیر کسی معاوضہ کے وہ کتاب ہمیں پڑھائی“۔وو محترم مولانا عبدالباسط شاہد صاحب لکھتے ہیں :- حضرت مولوی صاحب اپنے شاگردوں میں علم کی پیاس اور علم کی قدر و منزلت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ طالب علم کی کردار سازی اور اشاعت و تبلیغ کی لگن پیدا کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔ایک دفعہ جامعتہ المبشرین کی کسی تقریب کی رپورٹنگ کی خدمت استاد محترم نے خاکسار کے سپرد کی۔الفضل میں اشاعت کے لئے بھجوانے سے قبل آپ کی خدمت میں رپورٹ پیش کی تو آپ نے ساری رپورٹ پوری توجہ سے پڑھی اور ایک دو جگہ اصلاح فرمائی اور آخر میں میرے نام کے ساتھ سیکریٹری جامعتہ المبشرین " کے الفاظ اپنے قلم سے تحریر فرمائے۔یادر ہے کہ یہ کوئی مستقل عہدہ نہیں تھا بلکہ حوصلہ افزائی اور شاگردنوازی کا ایک انداز تھا۔ذی ثروت ، صاحب دل بزرگوں اور احباب میں سے بعض میں اکرام ضیف اور مہمان نوازی کی مثالیں تو ضرور دیکھنے میں آتی ہیں مگر محدود ذرائع آمدنی رکھنے والوں میں سے حضرت استاد مرحوم کا سا حوصلہ، سیر چشمی اور شاگرد نوازی پھر دیکھنے میں نہ آئی۔کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ کل اس میں پڑھائی کے دوران ہم میں سے کسی نے چائے کی فرمائش کر دی بھی لسی کا ذکر آ گیا، دودھ سوڈا " جو اس زمانے کی بہت اونچی چیز تھی اس کی خواہش کا اظہار ہوا، حضرت مولانا بکمال طبیب خاطر اپنے گھر سے یا بازار سے اس کا اہتمام کرواتے۔کھلاتے پلاتے ہوئے آپ کی مخصوص جاندار مسکراہٹ مسلسل قائم رہتی۔مکرم چوہدری عبد الکریم خان صاحب شاہد کا ٹھگوھی مرحوم نے رقم فرمایا:- شاگرد اور استاد کا رشتہ نہایت اہم ، بڑا مقدس اور قابل قدر شاگرد اور استاد کا مقدس رشته رشتہ ہوتا ہے۔شفیق استاد اپنے شاگرد کا ہمدرد و خیر خواہ ہوتا ہے اور سعادت مند شاگرد بھی اپنے مہربان استاد کی عزت و توقیر کرتا ہے اس کے دل میں اپنے استاد کی بڑی قدر ہوتی ہے اور وہ اپنے استاد کی رہنمائی سے پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے تحصیل علم میں ترقی کی