حیاتِ خالد — Page 752
حیات خالد 741 گلدستۂ سیرت صاحب موصوف ان دنوں جامعۃ المبشرین کے پرنسپل تھے۔آپ کو زیر تربیت مبلغین کی تربیت کا ہر وقت خیال رہتا تھا۔اور آپ ان کی پڑھائی کے اوقات کے علاوہ بھی ان کی نگرانی کرتے رہنا اپنا فرض منصبی خیال فرمایا کرتے تھے۔ایک روز نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد آپ جامعتہ المبشرین کے ہوٹل میں تشریف لائے اور تمام طلبہ کو کمروں سے باہر صحن میں آنے کا ارشاد فرمایا۔چنانچہ ہم سب باہر نکل آئے اور قطاروں میں ان کے سامنے کھڑے ہو گئے۔آپ نے دریافت فرمایا کہ جو طلبہ عشاء کی نماز کے لئے مسجد نہیں جاسکے وہ ہاتھ اٹھا ئیں خاکسار بفضلہ تعالی با قاعدگی سے نمازوں میں مسجد جاتا تھا مگر اس روز کسی وجہ سے نہ جا سکا اور نماز اپنے کمرہ میں ہی پڑھ لی تھی۔چنانچہ جو طلباء مسجد نہ جاسکے تھے ان سب نے ہاتھ اٹھائے خاکسار نے بھی ہاتھ اٹھا دیا۔مگر دل میں سخت شرمندگی تھی کہ حضرت مولانا میرے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے جب کہ یہ پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ میں مسجد نہ جا سکا تھا۔حضرت مولانا نے باری باری سب سے پوچھا کہ مسجد میں جا کر نماز با جماعت نہ پڑھ سکنے کی کیا وجہ ہے؟ سب باری باری اپنی وجوہات بتاتے گئے بھی کہ خاکسار کی باری آگئی۔میں سوچ رہا تھا کہ خاص وجہ تو کوئی نہیں تھی صرف ستی ہوئی تھی۔پڑھتے پڑھتے اتنی دیر ہوگئی تھی کہ مسجد میں جماعت مانا ممکن نہ تھی اس لئے کمرہ میں ہی پڑھ لی تھی۔مگر جب خاکسار کی باری آئی تو حضرت مولانا موصوف نے خاکسار سے کچھ نہیں پوچھا بلکہ خاکسار سے اگلے طالب علم سے مخاطب ہو گئے۔میں آپ کے اس طرز عمل سے حیران رہ گیا۔سوچتا رہا کہ آپ نے مجھ سے کیوں نہ پوچھا۔آخر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ آپ کو علم تھا کہ میں اکثر مسجد میں ہی جا کر نماز ادا کرتا ہوں۔آج اگر نہیں گیا تو کوئی خاص وجہ ہوگی اس لئے مجھے شرمندہ کرنا مناسب خیال نہ فرمایا۔حضرت مولانا کی اس شفقت نے میرے دل پر بڑا گہرا اثر کیا اور میں نے دل میں پختہ عہد کیا کہ آئندہ ہر صورت میں وقت پر نماز کے لئے مسجد میں حاضر ہوا کروں گا۔میں سوچتا ہوں کہ اگر مولانا مجھ سے بھی پوچھ لیتے تو شاید یہ بات میرے لئے اتنا محرک ثابت نہ ہوتی۔مكرم عطاء الحجيب صاحب را شد بیان کرتے ہیں :۔حضرت ابا جان کے شاگرد بلکہ شاگردوں کے شاگرد آج اکناف عالم میں پھیلے ہوئے ہیں اور خدمات دینیہ بجالا رہے ہیں۔ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو حضرت ابا جان کی زندگی میں جب بھی ان سے ملتے تو بڑے فخر سے یہ ذکر کرتے کہ ہم آپ کے شاگرد ہیں۔حضرت ابا جان ایسے مواقع پر کہا کرتے تھے کہ میرا اصول تو یہ ہے کہ میرا شاگرد تو وہ ہے جو خود اس بات کو تسلیم کرے۔گھر کے ماحول