حیاتِ خالد — Page 712
حیات خالد 701 گل کے لئے آ جاؤ گو ہم پہلے اٹھے ہوتے تھے۔اپنی اولاد اور خاندان کی تربیت کے لئے آپ ہر وقت کوشاں رہتے تھے۔دعا میں شغف حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے جماعت احمدیہ کو جو سب سے بڑی دولت عطا کی ہے وہ دعا کی قوت کا ادراک ہے جس کے ذریعہ ہے اللہ تعالیٰ تک پہنچا جا سکتا ہے اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ہر احمدی کا دعا کے ساتھ ایک گہر ا مضبوط اور کبھی نہ ٹوٹنے والا رشتہ قائم ہے۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری روحانیت کے جس بلند مقام پر فائز تھے اس کا لازمی نتیجہ تھا کہ آپ کی زندگی میں دعا ایک کلیدی کردار رکھتی تھی۔آپ نہ صرف دعا گو تھے بلکہ محض خدا تعالی کے فضل و کرم سے آپ کی دعائیں قبولیت کا مرتبہ پاتی تھیں۔اس ضمن میں چند اہم واقعات ہدیہ قارئین کئے جاتے ہیں۔0 مکرم چوہدری انور احمد صاحب کا ہلوں سابق امیر جماعت برطانیہ لکھتے ہیں:۔جن دنوں میں مشرقی پاکستان (حال بنگلہ دیش) میں مقیم تھا مجھے متعدد بزرگان سلسلہ کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ان بزرگان کرام میں حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس، حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھری رحمہ اللہ محترم مرزا عبد الحق صاحب اور محترم شیخ مبارک احمد صاحب شامل تھے۔ایک روز رات کے کھانے کے بعد میں نے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کو دعا کے لئے کہا۔فرمایا ضرور دعا کروں گا۔اگلے دن ناشتے پر فرمانے لگے بہت کوشش کے باوجود دل سے تمہارے لئے دعا نہیں نکلتی تھی۔میں نے وجہ پوچھی تو فرمایا دل میں خیال آتا تھا کہ جس کے لئے تم دعا کر رہے ہو وہ تو فجر کی نماز کے وقت مزے سے سویا ہوا ہے اور تم اس کے لئے دعا مانگتے ہو۔میں بہت شرمندہ ہوا۔عرض کیا رات کو سونے میں بہت دیر ہو جاتی ہے فجر تک نیند پوری نہیں ہوتی۔فرمانے لگے نیند کا کوئی اور وقت بنالو۔میں نے کہا اچھا۔لیکن یہ تو دعا کریں کہ مجھے یہ توفیق ملے کہ فجر کی نماز طلوع آفتاب سے پہلے پڑھ لیا کروں۔فرمایا ہاں ! دل سے دعا کروں گا۔حضرت مولانا نے ایسی دعا کی اور خدا کی رحمت سے ایسی قبول ہوئی کہ مجھے یاد نہیں کہ پچھلے ۲۵ سال میں کبھی نماز فجر طلوع آفتاب سے پہلے نہ پڑھی ہو۔اور شاذ ہی کوئی دن ایسا آیا ہو کہ فجر کی نماز سے قبل تہجد کے نوافل کی توفیق نہ ملی ہو۔الحمد للہ۔یہ حضرت مولانا کا