حیاتِ خالد — Page 713
حیات خالد 702 گلدستہ سیر مجھ پر اتنا بڑا احسان ہے کہ جو پشتوں تک نہیں بھلایا جا سکتا۔0 مکرم خواجہ عبد المومن صاحب سابق ناظم اطفال مجلس اطفال الاحمدیہ مقامی ربوہ سابق مالک مومن کلاتھ ہاؤس ربوہ حال مقیم اوسلو۔ناروے حضرت مولانا کی دعا کی صفت کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں :- جب ربوہ کی قریشی مارکیٹ گولبازار میں میری کپڑے کی دکان تھی اس وقت کچھ کاروباری معاملات میں مجھے ایک تنازعہ سے دو چار ہونا پڑا۔یہ تنازعہ عرصہ ایک ماہ تک نظارت امور عامہ میں چلتا رہا۔اس دوران میری درخواست پر حضرت مولانا مسلسل میرے لئے دعائیں کرتے رہے۔چونکہ میں اپنے آپ کو سو فیصد سچائی پر سمجھتا تھا اس لئے مقدمہ میں اگر کوئی نا گوار فیصلہ میرے لئے سامنے آجاتا تو مجھے ٹھوکر لگنے کا بھی خطرہ ہو سکتا تھا۔اس لئے حضرت مولوی صاحب نے فرمایا میں آپ کے لئے یہ دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کو ٹھوکر سے بچائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے مقدمہ کا فیصلہ میرے حق میں ہو گیا۔الحمد للہ۔اس واقعہ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حضرت مولوی صاحب کا تعلق میرے ساتھ ایک شفیق بزرگ کا تھا۔میری پریشانی سے وہ نہ صرف پریشان ہوئے بلکہ دردمندانہ دعاؤں سے میری مدد بھی فرمائی۔0 مکرم حاجی نسیم احمد صاحب ہرل دار العلوم ربوہ لکھتے ہیں :- حضرت مولانا کی وفات سے دو سال قبل کا واقعہ ہے۔رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔حضرت مولوی صاحب سے میری ملاقات ہوئی۔میں نے عرض کیا مولوی صاحب اس سال میں اعتکاف بیٹھوں گا میرے لئے دعا کریں۔فوراً بولے۔عزیزم تم میرے لئے دعا کرو گے وعدہ کرو نام۔لے کر دعا کرو گے۔میں نے کہا جی ضرور دعا کروں گا۔کہنے لگے دعا کا دائرہ وسیع کرنا۔عزیزم میں بھی تمہارے لئے دعا کروں گا۔تم بھی میرے لئے دعا کرنا۔نہ جانے خدا تعالیٰ کس کی دعا قبول کر لے۔کہاں آپ جیسا بزرگ روحانیت اور نور کا پیکر اور کہاں میں ایک عام مشخص۔مگر حضرت مولوی صاحب نے جس اصرار سے مجھے کہا کہ میں بھی آپ کے لئے دعا کروں اس نے مجھے حیرت زدہ کر دیا۔آپ کی سادگی اور شرافت سے تو میں پہلے ہی بہت متاثر تھا۔اس واقعہ کے بعد جب بھی کہیں آپ کا ذکر ہوتا تو میں یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا کہ آپ جیسے انسان دنیا میں کم ہی ہوتے ہیں۔