حیاتِ خالد — Page 711
حیات خالد لکھتی ہیں:- 700 گلدستۂ سیرت حضرت مولانا کی صاحبزادی محترمہ امتہ الرفیق طاہرہ صاحبہ نیشنل صدر لجنہ اماءاللہ کینیڈا میرے ابا جان چاہے رات کو کسی بھی وقت سوئیں صبح بہت جلد بیدار ہو جاتے تھے۔سخت سردی میں ٹھنڈے پانی سے وضو کر کے تہجد میں مصروف ہو جاتے اور نہایت رقت سے دعا ئیں کرتے۔آج کل ہر قسم کے آرام دیکھتے ہوئے اکثر مجھے ابا جان کا خیال آجاتا ہے“۔ہیں:۔0 حضرت مولانا کی صاحبزادی محترمہ امتہ الرحمن صاحبہ بیگم ڈاکٹر عبدالسمیع صاحب لکھتی صبح سحری کے وقت تہجد پڑھتے۔قرآن کی تلاوت فرماتے نماز کے وقت مسجد جانے سے قبل گھر والوں کو بھی بیدار کرتے۔اس کا طریق یہ ہوتا کہ کمرے کے دروازے کے پاس جا کر السلام علیکم کہتے تا کہ سونے والے جاگ جائیں اور نماز ادا کریں۔اس آواز پر سب جاگ جاتے تھے۔0 حضرت مولانا کی بہو محترمہ امتہ الباسط شاہد صاحبہ اہلیہ مکرم عطاء الکریم شاہد صاحب تحریر فرماتی ہیں :- ” جب سے میں نے آپ کو دیکھا آپ کو راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر دعا میں کرتے پایا۔طبیعت اچھی نہ ہوتی پھر بھی عین تہجد کے وقت آپ کے کمرے کی بتی جل اٹھتی اور آپ اٹھ کر وضو کر کے عبادت الہی میں مصروف ہو جاتے۔ایک بار آپ صبح سویرے باورچی خانہ میں تشریف لائے اور فرمایا کہ آج مجھے تہجد کے لئے عطاء الحبیب نے جگایا ہے۔یہ ہمارے بڑے بیٹے کا نام ہے جو آپ کا پہلا پوتا بھی ہے۔ہم کچھ حیران ہوئے تو مسکرا کر فرمایا۔مین تہجد کے وقت ہی بیٹا خواب میں میرے پاس آیا اور کان میں کہا بڑے ابا اُٹھیں تہجد کا وقت ہو گیا ہے۔میری آنکھ کھلی ٹارچ جلا کر وقت دیکھا تو یہ میرے اٹھنے کا وقت ہی تھا۔مكرم عطاء الرحمن صاحب طاہر کراچی لکھتے ہیں :- کراچی کے دوروں میں عموماً میرے ہاں ہی قیام فرمایا کرتے تھے بعض اوقات جماعتی کاموں میں دیر ہو جاتی اور رات بارہ ایک بج جاتا اس لئے خیال ہوتا کہ آج ابا جان نوافل کے لئے کیسے اٹھیں گے مگر جب نوافل کا وقت ہوتا تو آپ کی نیند کھل جاتی اور آپ نوافل ادا کرنے شروع کر دیتے۔آپ خود بھی اٹھتے اور ساتھ ہی مجھے بھی آواز دے دیتے یہ ان کا شروع سے طریق تھا۔ہم جلسہ سالانہ کے لئے ربوہ آتے تو صبح نماز کو جاتے ہوئے السلام علیکم کہہ کر توجہ دلا جائے کہ نماز 0