حیاتِ خالد — Page 690
حیات خالد 679 گلدستۂ سیرت اس کے دو ماموں زاد بھائی بھی تھے۔یہ تینوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر سڑک پر پانی میں جا رہے تھے۔ایک جگہ سڑک سے پاؤں جو پھسلا تو دونوں بھائیوں کے ہاتھ چھوٹ گئے اور وہ ڈوبنے لگا تو اس شخص نے بچایا۔جب مولوی صاحب کو معلوم ہوا تو اُس کا بہت شکریہ ادا کیا۔اُس سے پو چھا کہ تمہارا کوئی نقصان ہوا ہو تو بتاؤ۔اُس نے بتایا کہ میرے میں روپے گم ہو گئے ہیں۔مولوی صاحب نے جھٹ میں روپے دے دیئے اور اس کے علاوہ اس کو انعام بھی دیا۔میرے بیٹے عطاء المجیب کی پیدائش سے پہلے مولوی صاحب کو خدا نے بتایا تھا کہ آپ کو چو تھا لڑ کا شوخ و شنگ دیا جائے گا۔الحمد للہ۔ایک دفعہ خواب میں ان کی والدہ صاحبہ آئیں تو انہوں نے کہا کہ بیٹا! یہ عید گھر میں کرنا۔عید الاضحیٰ تھی اور مولوی صاحب نے قادیان جانے کا ارادہ کیا ہوا تھا اور مولوی صاحب نے از خود خواب کی یہ تعبیر کی کہ دیر ہوئی ہے میں قادیان نہیں گیا شائد وہ چاہتی ہوں کہ قادیان آئیں اور مزار پر دعا کریں۔چنانچہ قادیان چلے گئے تو بعد میں میرے ہاں امتہ الرفیق چھوٹی بیٹی کی پیدائش ہوئی۔بعد میں مولوی صاحب کہتے تھے کہ والدہ صاحبہ نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ بیٹا عید گھر میں کرنا۔مولوی صاحب نے جب اپنے دو بیٹوں کو تبلیغ کے لئے رخصت کیا تھا تو ان کو خواہش تھی کہ میں ان کا کامیابی کے ساتھ واپس آنے پر استقبال کروں لیکن آپ کی زندگی میں ایسا نہ ہو سکا اگر چہ اپنے بیٹیوں کی تبلیغی کوششوں سے ان کا دل بہت خوش ہوتا رہتا تھا۔صحت کی خرابی کی وجہ سے جب لندن گئے اور اپنے بیٹے عطاء المجیب کو تقریر کرتے دیکھا تو بہت ہی خوش ہوئے۔خاص کر انگریزی میں تقریر کرتے دیکھ کر۔الحمد للہ۔مولوی صاحب بہت ہی انصاف پسند تھے۔ایک دفعہ ایک بیٹے کے لیے رشتہ آیا تو کہنے لگے کہ میں تو انصاف کرتا ہوں۔اس وقت دو بیٹوں کی شادی باقی تھی۔کہا کہ میں نے ایک بیٹے عطاء الرحیم کے لئے تو اپنی بھانجھی لی ہے اور دوسرے بیٹے عطاء الجیب راشد کے لئے اپنی بیوی کی بھابھی لی ہے۔گھر میں بعض دفعہ کہتے کہ میرا دل چاہتا ہے کہ سب کے لئے کچھ نہ کچھ تھنہ لاؤں مگر مجبور ہوں۔کبھی کسی کے لئے کبھی کسی کے لئے کوئی چیز لاتے تھے۔اس پر بھی کبھی کسی کو شکایت نہیں ہوئی تھی نہ کسی نے کبھی مطالبہ کیا کہ میرے لئے کیوں نہیں لائے۔یہ بھی خدا کا خاص فضل ہی ہے۔سب سے بہت پیار تھا۔بیٹوں سے زیادہ بیٹیوں کا اور بیٹیوں سے زیادہ بہوؤں کا خیال رکھتے تھے۔سب بچوں کی شادیاں بھی بڑی سادگی سے ہوئیں۔کسی کی نقل نہیں کی۔جو کچھ اس وقت ہوسکا