حیاتِ خالد — Page 689
حیات خالد 678 گلدستۂ سیرت تشریف لائیں اور مجھے ہدایات سے نوازا کہ یہاں لجنہ قائم کریں اور مستورات سے چندہ ضرور لیں خواہ شروع میں ایک پیسہ ہی لیں۔گاؤں کی عورتوں کی تربیت کی بہت ضرورت ہے۔ہم وہاں آٹھ سال رہے اور مولوی صاحب وہاں کے صدر رہے اور جامعہ احمدیہ کے پرنسپل بھی رہے اور جماعت کی ہر قسم کی اصلاح کرتے رہے۔ان کی کوشش سے ہی وہاں لڑکیوں کا سکول جاری کیا گیا۔چار ماہ تک تو گھر پر ہی رہا تھا۔سکول بننے کے بعد چنیوٹ سے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو سکول کے افتتاح کے لئے بلایا گیا تھا۔ان کی دعا سے اب وہاں مڈل تک سرکاری سکول منظور ہو گیا ہے وہاں سے پڑھ کر ہی احمدی لڑکیاں سکول کی ٹیچر بن گئی ہیں۔مولوی صاحب ایک دن بازار جارہے تھے۔دیکھا کہ ایک بچہ گرمی میں ننگے پاؤں جا رہا ہے۔اُس سے آپ نے پوچھا کہ جوتی کیوں نہیں پہنی؟ اس نے کہا کہ میرے پاس جوتی نہیں ہے نیز بتایا کہ میرا باپ فوت ہو گیا ہے۔چنانچہ آپ نے اس وقت دکان سے جوتی لے کر پہنا دی۔اُس بچے کی والدہ نے بعد میں مجھے آکر بتایا۔اسی طرح ایک لڑکا مسجد میں ملا کہ میں یہاں پڑھنے کے لئے آیا ہوں۔اب مجھے رہنے کو جگہ تو مل گئی ہے مگر بستر نہیں ہے۔مولوی صاحب اس کو اپنے ساتھ گھر پر لائے اور پورا بستر دیا اور کہا کہ اور کوئی ضرورت ہو تو بتاؤ تو اُس نے کہا کہ مجھے کلاس میں بیٹھنے نہیں دیتے۔ٹیچر کہتے ہیں کہ یونیفارم پہن کر آؤ۔مولوی صاحب اُسے اُسی وقت مومن کلاتھ ہاؤس لے کر گئے اور کپڑا خریدا اور سامنے ہی درزی کی دکان تھی۔درزی کو کہا کہ اس بچے کا ناپ لے لو اور صبح سکول جانے سے پہلے کپڑے سی کر دے دینا۔چنانچہ صبح و والڑ کا خوش خوش یو نیفارم پہن کر سکول گیا۔ایک دفعہ ربوہ اور احمد نگر کے در میان سیلاب آیا لوگ بہت دیکھنے جاتے تھے اُس وقت میرا بیٹا عطاء الجیب قریباً سات آٹھ سال کا تھا مولوی صاحب نے ایک دن مجھے کہا کہ اس کو پانی کی طرف نہ جانے دیا میں نے ایک منذر خواب دیکھا ہے۔کئی بار اُس نے جانے کے لیے کہا۔میں پہلے تو منع کرتی رہی پھر میں بھول گئی اور اجازت دے دی۔کچھ دیر کے بعد مجھے یاد آیا کہ مجھے تو مولوی صاحب نے منع کیا تھا، میں نے کیوں اجازت دے دی۔میں بہت گھبرائی ادھر اُدھر پو چھتی رہی۔تھوڑی دیر کے بعد عزیز آگیا تو میں نے شکر کیا۔کپڑے کچھ کیلے تھے اور مٹی وغیرہ لگی ہوئی تھی۔میں نے کچھ خیال نہ کیا اور عزیز نے بھی کچھ نہ بتایا۔تھوڑی دیر کے بعد مولوی صاحب گھر آئے تو انہوں نے بتایا کہ یہ خاص خدا کا فضل ہوا ہے کہ بچہ بچ گیا ہے یہ تو ڈوب رہا تھا۔ایک ٹانگے والے نے چھلانگ لگا کر بچایا ہے۔عزیز کے ساتھ۔