حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 691 of 923

حیاتِ خالد — Page 691

حیات خالد 680 گلدستۂ سیرت بچیوں کو دے دیا اور نہ خود کسی قسم کا مطالبہ کیا۔بلکہ ایک رشتہ آیا کہ ہم غریب ہیں نہ کوئی مکان ہے نہ جائیداد ہے ہم واقف زندگی ہیں۔بس یہی خواہش ہے کہ آپ کے ساتھ تعلق ہو جائے۔چنانچہ استخارہ کرنے کے بعد رشتہ منظور کر لیا گیا اور پھر انہوں نے کچھ رقم پیش کی کہ ہمارے پاس صرف یہی ہے باقی آپ اس میں اور ڈال کر زیور بنوالیں۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔میں ایک دن صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب کے ہاں نواب مبارکہ بیگم صاحبہ سے ملنے گئی تو مجھے واپس آتے ہوئے خاص طور پر فرمایا کہ مولوی صاحب کو میرا سلام کہنا اور یہ بتانا کہ جب سے شمس صاحب کی وفات ہوئی ہے میں ہر روز نماز میں مولوی صاحب کی درازی عمر کے لئے دعا کرتی ہوں۔چنانچہ میں نے گھر آ کر اُن کا پیغام دیا تو مولوی صاحب بہت ہی خوش ہوئے۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی وفات ایک ہفتہ پہلے اور مولوی صاحب کی وفات ایک ہفتہ بعد میں ہوئی تھی۔مولوی صاحب اس بات پہ بہت زور دیا کرتے تھے کہ خواہ کچھ ہو کوئی تکلیف ہو بس خدا پر توکل رکھو، اُس سے مانگو اور کسی پر بھروسہ نہ رکھو۔اس نصیحت کا یہ فائدہ ہے کہ دل بہت مطمئن رہتا ہے کوئی گھبراہٹ نہیں ہوتی۔بس یہ دعا کرتی ہوں کہ میرا خدا انجام تکثیر کرے اور اپنی رضا کی راہ پر چلائے اور اللہ مجھے سے راضی ہو جائے۔آمین۔مولوی صاحب غریبوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔غریبوں کی دعوت کبھی رد نہیں کرتے تھے۔کراچی کا واقعہ ہے کہ ایک غریب دوست نے دعوت کی۔آپ اس کے گھر گئے تو واپسی کے وقت ٹانگے میں بیٹھے تو راستہ میں ایک پتھر سے ٹھو کر کھا کر ٹانگا اُلٹ گیا تو سارا بوجھ ٹانگے کا آپ کے اوپر پڑا جس کی وجہ سے آپ کی چھ پسلیاں کر ایک ہو گئیں۔جب ان کو ہسپتال لایا گیا تو ڈاکٹر صاحب اور باقی دوست کہنے لگے کہ آپ ایسی جگہ کیوں گئے تھے وہ رستہ تو بہت خراب تھا۔ہمیں حکم کرتے۔ہماری کاریں آپ کو لے جاتیں۔اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ ایک غریب مخلص بھائی نے محبت کے ساتھ اپنے گھر پر بلایا تھا کیا میں اُس کی خواہش پوری نہ کرتا ؟ یہ میرے لئے بہت مشکل تھا اس لئے میں نے اُس کی دعوت رو نہیں کی۔آپ بچوں کی خواہش بھی پوری کر دیتے تھے۔بچوں سے بہت پیار تھا۔ایک دفعہ آپ لاہور جارہے تھے۔چھوٹی بیٹی سے پوچھا تمہارے لئے کیا لاؤں تو کہنے لگی کہ سرخ رنگ کے بوٹ لائیں۔چنانچہ رات کے وقت واپس آئے بچی سوئی ہوئی تھی اُسے جگا کر وہ بوٹ پہنائے بچی بہت خوش