حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 611 of 923

حیاتِ خالد — Page 611

حیات خالد 606 آخری ایام اٹھایا گیا تو اس وقت تک ہزار ہا احباب وہاں جمع ہو چکے تھے۔جنازہ نماز مغرب کے قریب گولبازار کے راستے سے مسجد مبارک میں پہنچا۔راستے میں ہر شخص کی یہ کوشش تھی کہ وہ جنازہ کو کندھا دینے کی سعادت حاصل کرے۔نماز مغرب پڑھانے کے بعد حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے مسجد مبارک کے مشرقی وسیع احاطہ میں تشریف لے جا کر پہلے حضرت مولوی صاحب کے عزیزوں سے تعزیت فرمائی اور پھر آپ کا چہرہ دیکھنے کے بعد نماز جنازہ پڑھائی جس میں احباب اتنی کثرت کے ساتھ شامل ہوئے کہ میدان اپنی وسعت کے با وجو د تنگ معلوم ہوتا تھا۔حضور نے نماز جنازہ پڑھانے کے بعد جنازہ کو کندھا بھی دیا۔نماز جنازہ کے بعد تابوت مقبرہ بہشتی میں لے جایا گیا جہاں پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تدفین تعالی عنہ کے مزار والی چار دیواری کے قریب اس قطعہ میں آپ کی تدفین ہوئی جس میں سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ممتاز بزرگ اور جید علماء مثلاً حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب، حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی اور حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس و غیر هم مدفون ہیں۔چونکہ حضور ایده اللہ تعالیٰ ناسازی طبع کی وجہ سے جنازہ کے ساتھ مقبرہ بہشتی میں تشریف نہ لا سکے تھے اس لئے حضور نے محترم جناب مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ صوبائی امیر کو اپنا نمائندہ مقرر فرمایا۔چنانچہ تدفین مکمل ہونے پر محترم مرزا صاحب نے دعا کرائی۔تابوت کو لحد میں اتارنے میں محترم مرزا صاحب موصوف اور محترم شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ امیر جماعتہائے احمد یہ لائل پور کے علاوہ حضرت مولوی صاحب کے بڑے بیٹے مکرم عطاء الرحمن صاحب آف کراچی، آپ کے بھائیوں اور دیگر عزیزوں نے بھی حصہ لیا۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب فاضل ۱۴ر ایریل ۱۹۰۴ء کو ضلع جالندھر مختصر حالات زندگی کے ایک گاؤں کر یہا ( نزد گریام ) میں پیدا ہوئے آپ کے والد محترم کا اسم گرامی حضرت میاں امام الدین صاحب تھا۔جنہیں ۱۹۰۲ء میں احمدیت قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔پرائمری تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ کے والد صاحب نے آپ کے ماموں حضرت ڈاکٹر محمد ابراہیم صاحب کی تحریک پر آپ کو قادیان کے مدرسہ احمدیہ میں داخل کرا دیا جہاں پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ ، حضرت حافظ روشن علی صاحب رضی اللہ عنہ، اور سید میر محمد الحق صاحب رضی اللہ عنہ جیسے جلیل الشان بزرگوں اور جید استادوں کے زیر سایہ آپ کو علمی اور روحانی ترقی کے انمول مواقع میسر آئے۔اس کا نتیجہ تھا کہ آپ زمانہ طالب علمی ہی میں سلسلہ کی