حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 612 of 923

حیاتِ خالد — Page 612

حیات خالد 607 آخری ایام تقریری اور تحریری خدمات میں حصہ لینے لگے اور حضرت اصلح الموعود رضی اللہ عنہ کی خوشنودی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔۱۹۲۴ء میں آپ نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور ۱۹۲۷ء میں آپ نے سلسلہ کا با قاعدہ مبلغ بنے کی توفیق پائی۔۱۹۳۱ء میں بٹالہ ضلع گورداسپور کے ایک جلسہ میں آپ کو حضرت الصلح الموعود رضی اللہ عنہ کی نمائندگی کرنے کا فخر حاصل ہوا جب کہ حضور رضی اللہ عنہ نے اپنے دست مبارک سے سند نیابت لکھ کر انہیں عطا فرمائی۔اوائل عمر سے ہی آپ کو بہت سے اہم مناظرات میں اسلام اور احمدیت کی نمائندگی میں حصہ لینے کی توفیق ملی۔چنانچہ آپ نے متعدد مشہور عیسائی اور ہند و مخالفین اسلام سے بڑے معرکہ کے کامیاب مناظرے کئے اور ملک کے طول و عرض میں تشریف لے جا کر بکثرت تبلیغی دورے کئے اور جلسوں میں کامیاب تقاریر فرما ئیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو تحریری میدان میں بھی نمایاں خدمات کی توفیق دی۔اوائل عمر سے ہی سلسلہ کے اخبارات میں مضامین تحریر کرنے شروع کئے جن کا سلسلہ وفات تک جاری رہا۔کم و بیش ۳۰ تصانیف فرما ئیں جن میں تمہیمات ربانیہ تجلیات رحماني، القَوْلُ الْمُبِينُ فِي نَفْسِيرِ عالم النبين، مباحث مصر، مباحثہ راولپنڈی ، مباحثہ مہت پور، بہائی تحریک پر تبصرہ اور وحی و الہام کے متعلق اسلامی نظریہ جیسی جامع اور ضخیم کتب بھی شامل ہیں۔تحریری میدان میں آپ کی ایک اہم خدمت ماہنامہ الفرقان کا اجراء ہے جو آپ نے ربوہ سے جاری فرمایا اور ۲۶ برس متواتر آپ کی ادارت اور ذاتی نگرانی میں سلسلہ کی اہم تبلیغی اور علمی خدمت بجالاتا رہا ہے۔1- حضرت مولوی صاحب کو چار پانچ سال تک بلا د عر بیہ میں تبلیغ حق کا موقع بھی ملا جہاں سے آپ نے عربی رسالہ "البشری جاری فرمایا۔ملک میں اہم تبلیغی خدمات کے علاوہ آپ جامعہ احمدیہ و جامعتہ المبشرین کے پرنسپل اور تعلیم الاسلام کالج کے لیکچرار بھی رہے۔سالہا سال تک مجلس کار پرواز کے صدر اور مجلس انصار اللہ کے نائب صدر بھی رہے اور ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد (تعلیم القرآن ) کی حیثیت میں بھی اہم انتظامی اور دینی خدمات کی توفیق ملی اور خدمت کا یہ سلسلہ آخر دم تک جاری رہا حتی کہ وفات سے صرف ایک دن قبل بھی دفتر تشریف لے جا کر کام کرتے رہے۔۱۹۷۳ء میں سفر انگلستان اور ۱۹۷۶ء میں سفر ایران کا بھی آپ کو موقع ملا۔الغرض حضرت مولوی صاحب کی قلمی ، اسانی، تبلیغی، تربیتی اور تنظیمی خدمات کا ریکارڈ بہت شاندار ہے۔آپ کو یہ فخر بھی حاصل ہوا کہ ۱۹۵۶ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی