حیاتِ خالد — Page 610
حیات خالد 605 آخری ایام آپ کو خون کی پہلی قے آئی۔اسی وقت فضل عمر ہسپتال کے ڈاکٹر مکرم لطیف قریشی صاحب اور مکرم لطف الرحمن صاحب آپ کے مکان پر پہنچ کر علاج کی ہر ممکن تدبیر بروئے کارلائے۔وہ وقفہ وقفہ سے کئی بار آئے اور علاج کے سلسلہ میں بڑی جدو جہد کرتے رہے لیکن حالت بگڑتی ہی چلی گئی۔خون کی ئے وقفہ وقفہ سے آتی رہی حتی کہ آخری بار ایک بجے رات کو آپ کو خون کی قے آئی جس نے کمزوری اور ضعف کو انتہاء تک پہنچا دیا۔سوا ایک بجے آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر کے محبوب حقیقی سے جامی۔یوں تو عرصہ سے آپ کو شدید کھانسی اور بخار کی تکلیف تھی۔لیکن ڈاکٹری تشخیص کے مطابق آپ کی وفات پھیپھڑے کی رگ پھٹ جانے کی وجہ سے واقع ہوئی۔نماز فجر کے وقت جو نہی مقامی مساجد میں آپ کی الم ناک رحلت کا اعلان کیا گیا تمام محلہ جات سے احمدی مرد عورتیں اور بچے بکثرت آپ کے مکان واقع محلہ وار الرحمت وسطی میں جمع ہونے لگے۔وفات کے معابعد اس اندوہناک جماعتی صدمہ کی اطلاع حضرت خلیفہ مسیح الثالث ایدہ اللہ کی زیر ہدایت حضرت مولوی صاحب کے جملہ عزیزوں کے علاوہ دور و نزدیک کی احمدی جماعتوں کو بھی ٹیلیفون اور تار کے ذریعہ کر دی گئی بلکہ بیرونی ممالک کے مشموں اور جماعتوں کو بھی اطلاع بھیجوا دی گئی۔صبح چھ سات بجے آپ کو غسل دیا گیا۔غسل اور تجہیز و تکفین میں محترم غسل اور تجہیز و تکفین مولا نا عبد المالک خان صاحب ناظر اصلاح و ارشاد، مکرم مرزا عبدالسمیع صاحب ریٹائر ڈسٹیشن ماسٹر ، مکرم محمود احمد صاحب شاہد بنگالی، مکرم برکات احمد صاحب اور مکرم چوہدری محمد حسین صاحب نے حصہ لیا۔بعد ازاں جنازہ حضرت مولوی صاحب کے مکان کے ایک کمرہ میں رکھ دیا گیا جسے برف کی سلوں سے ٹھنڈار کھنے کا خاص اہتمام کیا گیا تھا۔دن بھر ہزار ہا احباب اور مستورات لائنوں میں کھڑے ہو کر باری باری چہرہ کی آخری زیارت حضرت مولوی صاحب کے چہرہ کی آخری زیارت کرتے رہے۔یہ سلسلہ شام کے ساڑھے چھ بجے تک برابر جاری رہا جب آپ کا جنازہ مکان سے اٹھایا گیا اس وقت بہت سے افراد خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی وہاں تشریف لائے ہوئے تھے۔چونکہ حضرت مولوی صاحب کے بیٹے ، بھائیوں اور دیگر احباب نے مختلف مقامات سے نماز جنازہ ربوہ پہنچنا تھا اس لئے نماز جنازہ کا وقت حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے بعد نماز مغرب مقر فرمایا تھا۔چنانچہ نماز مغرب سے قبل ساڑھے چھ بجے جب جنازہ آپ کے مکان سے