حیاتِ خالد — Page 463
حیات خالد 459 ماہنامہ الفرقان 0 د و روالپنڈی کے معروف صحافی مکرم محمد منظور صاحب صادق ایم۔اے جو کئی مقامی اخبارات روزنامہ تعمیر روزنامہ ”حیدر“ اور خبریں میں بطور نیوز ایڈیٹر کام کرتے رہے ہیں۔اور آج کل روز نامہ " کا ئنات میں کام کر رہے ہیں۔آپ نے الفضل میں شائع شدہ ایک مضمون میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا جو حضرت مولانا کی الفرقان کے ذریعے غیر معمولی قربانیوں کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ : - " حضرت مولانا کے ایک فرزند برادرم عطاء المہیب راشد - ایم اے حال مبلغ جاپان ( یہ جون ۱۹۷۷ء کی تحریر ہے جب محترم عطاء الجیب صاحب جاپان میں مبلغ تھے۔مؤلف ) نے جو تعلیم الاسلام کالج میں طالب علمی کے دور میں ہمارے ساتھ تھے ایک امتحان میں حسب معمول یو نیورسٹی میں اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنے پر گولڈ میڈل حاصل کیا تو حضرت خلیفۃ ابیج الثالث ایدہ اللہ تعالی جو اس وقت کالج کے پرنسپل تھے نے ان کے میڈل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مذاعضا فر ما یا کہ دیکھنا یہ کہیں ابا جان کو نہ دے دینا وہ اسے الفرقان میں لگا دیں گے۔احباب جانتے ہیں کہ الفرقان حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کی ادارت میں شائع ہونے والا جماعت کا ایک ممتاز اور مشہور علمی دینی رسالہ ہے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے اس جملے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مولانا کو اس خالصتا دینی اور جماعت رسالہ سے کس قدر پیار تھا کہ وہ اپنا سب کچھ اس پر قربان کرنے کو تیار ہو جاتے تھے۔(الفضل ارجون ۱۹۷۷ ء صفحه ۴ ) خاکسار راقم عرض کرتا ہے کہ مکرم محمد منظور صادق صاحب کا یہ کہنا کہ وہ اپنا سب کچھ اس کے لئے قربان کرنے کو تیار ہو جاتے تھے محض ایک اندازہ نہیں ہے بلکہ جس ہمت اور دلیری سے حضرت مولانا نے قریباً ۲۶ سال تک تن تنہا یہ رسالہ چلایا ہے۔یہ ان کی بے مثال قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔O وو مولانا عبدالباسط صاحب شاہد تحریر فرماتے ہیں:۔یہ نا در خوبی بھی آپ میں بدرجہ اتم موجود تھی کہ تقریر کے میدان کے شہسوار ہونے کے ساتھ ساتھ قلم پر بھی قدرت تھی۔اور اپنی زندگی کے قریباً ہر دور میں یعنی خدمت دین کے سلسلہ میں فلسطین جانے سے قبل فلسطین میں قیام کے دوران اور پھر وہاں سے واپسی پر اور تقسیم ملک کے بعد مشکل حالات میں بھی کوئی نہ کوئی قلمی میدان تیار کر لیا کرتے تھے۔الفرقان جیسا بلند پایہ علمی رسالہ آپ کے اس قلمی جہاد کا بہت اعلیٰ ثبوت تھا۔جسے آپ نے اپنے خون دل سے سینچا اور بین الاقوامی سطح پر پہنچادیا۔