حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 464 of 923

حیاتِ خالد — Page 464

حیات خالد 460 الفرقان میں شائع شدہ گراں قدر آراء ماہنامہ الفرقان" الفرقان اپنے قارئین کے ذہن اور دل پر جو نقوش چھوڑ رہا تھا۔بعض لوگوں کو ان باتوں کے اظہار کا موقعہ اور ملکہ بھی عطا ہوا اور وہ مولانا ابوالعطاء صاحب کو خطوط لکھ کر اپنی آراء اور تبصرہ جات سے مطلع کرتے تھے۔مولانا صاحب بھی ان میں سے منتخب خطوط کو ایڈیٹر کی ڈاک کے عنوان سے شائع کر دیتے تھے تا کہ الفرقان کی مقبولیت اور تاخیر کا علم دوسرے احمدی احباب کو بھی ہو سکے۔ان تبصرہ جات اور آراء کو اس جگہ درج کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت کے اس علمی مجلہ کی اہمیت علمی سطح اور جہاد با علم کا اندازہ ہو سکے اور یہ اندازہ ہو سکے کہ اللہ تعالی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو سلطان القلم کا خطاب دیا تھا اس کے نتیجہ میں اللہ تعالی نے جو انصار سلطان القلم پیدا کئے ان دو میں سے ایک نمایاں نام مولانا ابوالعطاء صاحب کا بھی آتا ہے اور یہ کہ کس طرح انہوں نے اپنا ناصر سلطان القلم “ ہونا ثابت کیا۔اس مجموعہ آراء و تبصرہ جات میں بعض ایسے تبصرے بھی موقع کی مناسبت سے شامل کئے جار ہے ہیں جو الفرقان کے علاوہ حضرت مولانا کی دیگر علمی خدمات کے بارے میں ہیں۔اس مجموعہ میں جہاں احمدی احباب کے تبصرہ جات اور آراء شامل ہیں وہاں غیر احمدی احباب کے تبصرہ جات بھی شامل ہیں جو اس رسالے کی مقبولیت عامہ پر دال ہیں۔0 حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی الکبیر لکھتے ہیں :- الحکم کے اجراء سے ایک بیداری سلسلہ کی قلمی دنیا میں پیدا ہو رہی ہے الفرقان کی اشاعت خوشکن اور امید افزاء ہے۔مولوی ابوالعطاء صاحب ان نوجوانوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی طالب علمی کے ایام میں بھی اپنی قلمی قابلیت کا نمایاں اظہار کیا تھا۔الفرقان قرآن کریم کے حسن و جمال کو نمایاں کرنے کے لئے نمودار ہوا ہے یہ مقصد ہی عظیم الشان ہے اور اس خدمت کے کرنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ آپ علم و معرفت کے دروازے کھولتا ہے۔66 ا حکم ۱۴ را پریل ۱۹۵۲ء بحوالہ الفرقان اپریل مئی ۱۹۵۲ء) ه رسالہ الفرقان کے مقاصد عظمی میں قرآن کریم کی اشاعت کے ساتھ ساتھ لغت قرآن یعنی عربی زبان سکھانا بھی شامل تھا۔اہل ذوق اور علم دوست اصحاب نے اس بات کو قدرو