حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 462 of 923

حیاتِ خالد — Page 462

حیات خالد 458 ماہنامہ الفرقان" احباب کو کسی رسالے کے شائع کرنے کا تجربہ ہے وہ جانتے ہیں کہ معیاری مضامین کی فراہمی ، بر وقت کتابت ، اچھی طباعت اور پھر بر وقت خریداروں کو ترسیل اور پھر اس سارے سلسلے کے لئے بروقت سرمایہ کی فراہمی کا کام اتنا کٹھن ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مردان میدان حوصلہ ہار دیتے ہیں۔لیکن محترم مولانا مرحوم نے یہ سب کام سر انجام دیئے اور ہر جہت سے الفرقان کو ایک معیاری رسالہ بنائے رکھا اور اسے جاری رکھا اور اس کے ذریعے سے بڑا علمی خزانہ فراہم کر دیا۔بڑے دقیق علمی مضامین شائع ہوئے۔جماعت پر اعتراضات کے علمی اور عقلی دلائل سے جوابات دیگر جماعت کی علمی برتری کو ثابت کیا۔مزید لکھتے ہیں کہ:- الفرقان جواں سال خدام کے عزم کی نشانی تھا۔یہ عالموں کے لئے علم کا خزانہ اور غیر از جماعت احباب کے لئے بھی تبلیغی مجلہ ثابت ہوتا رہا۔مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب وکیل المال اول تحریک جدید نے تحریر فرمایا :- الفرقان کا ایک ایک صفحہ ان کی عظمت اور اسلام اور احمدیت سے حضرت مولانا کی فدائیت کو ظاہر کرتا تھا۔اس عظیم الشان کام کے لئے آپ کو بے انتہا لگن تھی۔الفرقان کو زیادہ سے زیادہ نافع الناس اور مقبول عام بنانے کے لئے حضرت مولا نا ذاتی طور پر توجہ فرمایا کرتے تھے۔اور اس راہ میں جو بھی آپ سے تعاون کرتا اس کی قدردانی فرماتے۔خاکسار اپنے آپ کو اس عظیم مجلہ کے لائق نہ سمجھتا تھا۔مگر متعدد مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ پرچے کی تیاری ہورہی ہے کوئی نظم بھیج دیں۔چنانچہ مجھ نا چیز کی نظموں کو الفرقان میں شائع فرما کر میری قدردانی فرماتے“۔0 مکرم شیخ نور احمد صاحب منیر مرحوم سابق مربی سلسلہ لبنان و بلا دعر بیہ الفضل میں شائع شد و ایک مضمون میں رقم فرماتے ہیں کہ :- ”رسالہ الفرقان آپ کی زندگی کا شاہکار ہے۔آپ نے اس رسالہ میں سینکڑوں معرکتہ الآراء - مضامین تحریر فرمائے جن میں علمی اور فکری گل کاری نظر آتی ہے۔آپ کو علوم متداولہ پر عبور تھا۔تغییر القرآن ، حدیث ، فقہ ، عربی ادب اور کلام کا وسیع مطالعہ تھا۔ایک دفعہ مولانا نے مجھ سے بیان فرمایا کہ فلسطین جانے سے پہلے میں نے لائبریری کی جملہ کتب کو سرسری نگاہ سے دیکھ لیا تھا اور کئی کتب کے انڈیکس کا مطالعہ کر لیا تھا۔روزنامه الفضل ربوه ۳ / جولائی ۱۹۷۸ء )