حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 431 of 923

حیاتِ خالد — Page 431

حیات خالد 427 ماہنامہ " الفرقان" یوں تو الفرقان میں ہستی باری تعالیٰ پر متعدد مضامین شائع ہوئے تا ہم چند ہستی باری تعالی مضامین کا قدرے تفصیلی ذکر کیا جارہا ہے۔ا۔۲۔حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات پر مبنی ایک نہایت قیمتی مضمون دلائل ہستی باری تعالی کے عنوان سے الفرقان کی فروری ۱۹۷۷ء کی اشاعت میں شائع ہوا۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب ایڈیٹر الفرقان کا اپنا مضمون روسی چیلنج کا جواب“ کے عنوان سے الفرقان کے اگست ۱۹۵۹ء کے شمارے میں شائع ہوا۔جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ مضمون ایک روسی چیلنج کا جواب تھا۔ہوا یوں کہ ۱۶۔جولائی ۱۹۵۹ء کو روزنامہ DAWN" میں ایک خبر چھپی جس کا ترجمہ یہ ہے۔" ا سکو ریڈ یو مطالبہ کرتا ہے کہ اگر کوئی خدا ہے تو اسے اپنی ذات اور اہستی کو خود ثابت کرنا چاہئے۔اسے کم از کم کوئی ایسا معجزہ دکھانا چاہئے جس کے بعد اس کے وجود کے بارہ میں کسی کو شک کی گنجائش نہ رہے۔وہ کیسا خدا ہے جو اپنے وجود کو بھی ثابت نہیں کر سکتا“۔اس جسارت کے جواب میں حضرت مولانا نے فرمایا : - اسلام کی طرف سے یہ اعلان ہے کہ خدا تعالیٰ کی کوئی قوت بھی مشکل نہیں ہوئی وہ آج بھی اپنے پیاروں اور مقدسوں سے اسی طرح ہم کلام ہوتا ہے اور ان پر اپنی مرضی کو ظاہر فرماتا ہے جس طرح وہ صدیوں پیشتر انبیاء و مرسلین سے ہم کلام ہوتا رہا۔(الفرقان اگست ۱۹۵۹ء صفحه ۳) اس کے علاوہ قرآن کریم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مولانا صاحب ان کی بات انہی پر الٹاتے ہوئے فرماتے ہیں۔”ہمارا دعویٰ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بارہ میں ایسا معجزہ پیش کر رکھا ہے جس کا کوئی جواب روس کی الحادی زبانیں مل کر بھی نہیں دے سکتیں اور ہمارا خدا آئندہ بھی اس بارہ میں زندہ معجزات پیش کر رہا ہے۔(الفرقان اگست ۱۹۵۹ء صفحه ۳ ،۴۰) ۳۔فروری ۱۹۶۱ء کے الفرقان میں جناب اے کریسی مارلین صاحب امریکہ کا ایک مضمون ہستی باری تعالیٰ کے سات ثبوت کے نام سے شائع ہوا۔ڈاکٹر کریسی سابق صدر نیو یارک اکیڈمی آف سائنس تھے اور انہوں نے سائنٹیفیک نقطہ نظر سے وجود باری تعالی کے دلائل پر ایک مضمون