حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 432 of 923

حیاتِ خالد — Page 432

حیات خالد 428 Seven reasons why a scientist believes in God" 66 ماہنامہ الفرقان وه کے عنوان سے تحریر کیا جو جنوری ۱۹۴۸ء کے ماہنامہ Reader's Digest میں شائع ہوا اور پروفیسر کولسن ایف آرائیں صدر شعبہ ریاضیات آکسفورڈ یونیورسٹی کی بہترین رائے اور اصرار پر یه مضمون دوباره اکتوبر ۱۹۶۰ء کے Reader's Digest میں شائع ہوا۔اس مضمون کا اُردو ترجمہ محترم اے۔ایم انصاری صاحب ریٹائرڈ جج ہائی کورٹ حیدر آباد دکن نے کیا جو پہلے رسالہ طلوع اسلام میں شائع ہوا اور پھر مولانا نے اپنے رسالے میں شائع کیا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مولانا موصوف نے ایک معاند رسالے سے ایک مضمون لے کر صرف اور صرف اس لئے شائع کیا کہ اچھی تحریر کی حوصلہ افزائی کی جائے۔مولانا صاحب کا یہ طریق تھا کہ آپ کو جہاں سے اچھا مواد ملتا تھا آپ اُسے اپنے رسالہ میں افادہ عام کے لئے اور بالخصوص اپنے قارئین کے۔اضافہ علم کیلئے اسے الفرقان میں جگہ دیتے اور ساتھ ہی ان اخبارات و رسائل کا شکر یہ بھی ادا کر دیتے تھے۔بہر حال اس مضمون میں مصنف نے سات دلائل ہستی باری پر دئیے۔۔اللہ تعالیٰ کی ہستی کو ثابت کر دیا جائے تو پھر اس سے تعلق پیدا کرنے کے ذرائع کون سے ہیں؟ اس کے بارہ میں جناب غلام احمد صاحب فرخ کا مضمون قابل دید ہے۔یہ مضمون اپریل ۱۹۵۹ء کے الفرقان میں شائع ہوا جس میں انہوں نے تعلق باللہ کے سات ذرائع درج فرمائے ہیں۔قرآن حکیم ہستی باری تعالیٰ کے بعد سب سے اہم موضوع قرآن حکیم ہے اور اس کی اہمیت کا مولانا کو جو اندازہ تھا اس کا اظہار ان مقاصدار بعہ سے ہوتا ہے جو الفرقان کے پہلے ہی شمارے میں مولانا نے شائع کیئے اور ان کا پہلا مقصد فضائل اور حقائق قرآن مجید کا اظہار کرنا تھا۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب نے خود بھی اس مقصد کو اولیت دی بلکہ دوسرے مضمون نگاروں کو بھی قلم کے جو ہر دکھانے کا موقع دیا اور بہت سے نامور مصنفین کے مضامین گاہے بگا ہے الفرقان کی زینت کو چار چاند لگاتے رہے۔یعنی نزول قرآن، جمع و تدوین ، اس کا محفوظ رہنا اور غیر محرف ہونا ، وجه تسمیه، ترتیب نزول اور ترتیب تحریر میں فرق کی حکمت واہمیت، آیات و سور قرآنی کی ترتیب وغیر ہم۔یوں تو الفرقان کا مقصد عظیم خدمت قرآن ہی نظر آتا ہے پھر بھی خاص طور پر قرآن کریم کے بارہ میں الفرقان نے چار خصوصی نمبر بھی شائع کئے۔ان چاروں شماروں میں قرآن کریم کے بارے میں ممکنہ مضامین کا بڑی حد تک احاطہ کیا گیا ہے۔یہ چار نمبر کچھ یوں شائع ہوئے۔