حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 94 of 923

حیاتِ خالد — Page 94

حیات خالد 100 مناظرات کے میدان میں مناظرات کا پیدا کر لیتی تھی۔اسی عرصہ کی بات ہے کہ ایک روز حضرت مولوی محمد اعظم صاحب آف تھہ غلام نبی ( والد حضرت قاضی محمد رشید صاحب مرحوم سابق وکیل المال) قادیان آئے اور مجھے کہا کہ ہمارے قریب ایک گاؤں میں غیر احمد یوں کا جلسہ ہے ان سے حیات و وفات مسیح پر مناظرہ ہوگا اور یہ مناظرہ تم نے کرنا ہے۔میں نے کچھ عذر کیا کہ کسی عالم کو لے جائیں مگر ان کے اصرار پر میں چلا گیا۔اس گاؤں کا نام راجو وال تھا اس میں بٹالہ سے کئی مولوی جلسہ کرنے آئے ہوئے تھے۔مولوی محمد اعظم صاحب کے علاوہ میرے ساتھ دو تین اور احمدی تھے۔وہاں پر وفات مسیح پر مناظرہ مقرر ہوا اور باقاعدہ شرائط طے ہو کر مناظرہ شروع ہو گیا۔گاؤں کے لحاظ سے حاضری خاصی تھی۔میر اعنفوان شباب تھا بلکہ اسے بچپن کا زمانہ ہی کہنا چاہئے مگر مجھے بہت اعتماد تھا کہ یہ مولوی صاحبان کوئی جواب نہیں دے سکیں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے دلائل خوب یاد تھے اور حوالہ جات از بر تھے اور تقریر میں بھی جوش اور روانی تھی۔اڑھائی تین گھنٹے تک مناظرہ جاری رہا۔میں نے بار بار آیات قرآنیہ پیش کر کے ان سے وفات مسیح پر استدلال کیا اور مخالف علماء سے مطالبات کئے اور عام مسلمانوں کو غیرت دلائی کہ آپ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو فوت شدہ قرار دیتے ہو اور حضرت مسیح ناصری کو آسمانوں پر زندہ تصور کرتے ہو۔میں دیکھ رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے سامعین پر اچھا اثر تھا اور مجھے امید ہو رہی تھی کہ عام لوگوں کی رائے ہمارے ساتھ ہوگی۔شرائط کے مطابق آخری تقریر میری تھی۔مگر جو نہی میں اس تقریر کے لئے کھڑا ہوا تو پہلے سٹیج پر سے تالیاں شروع ہوئیں اور پھر عوام نے بھی تالیاں بجائی شروع کر دیں اور شور مچا دیا کہ مرزائی ہار گئے ، مرزائی ہار گئے۔یہ صورت حال میری ناتجربہ کاری کے باعث میرے وہم و خیال میں بھی نہ تھی اور مجھے قطعا یہ امید نہ تھی کہ لوگ اتنی زیادتی بھی کر سکتے تھے۔اس شور و غوغا میں مولویوں نے اجلاس ختم کر دیا اور لوگ منتشر ہو گئے۔میری طبیعت بہت افسردہ تھی اور میں حیران و ششدر رہ گیا کہ لوگ اتنے ظالم بھی ہوتے ہیں۔حضرت مولوی محمد اعظم صاحب نے فرمایا کہ آئیے ہم نماز عصر ادا کریں۔چنانچہ ہم چند آدمی قریب ہی جاری ایک نہر کے کنارے وضو کر کے نماز کیلئے تیار ہوئے۔پاس ہی پل تھا جس پر سے گزر کر لوگ گاؤں کو جا رہے تھے۔حضرت مولوی صاحب موصوف نے اصرار فرمایا کہ میں نماز پڑھاؤں۔چنانچہ میں نے نماز شروع کرائی اور نہایت رقت سے ان لوگوں کیلئے ہدایت کی دعا کی۔وہ لوگ پاس