حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 95 of 923

حیاتِ خالد — Page 95

حیات خالد 101 مناظرات کے میدان میں سے گزر رہے تھے اور ہمیں نماز پڑھتا دیکھ کر ایک دوسرے کو بآواز بلند کہہ رہے تھے کہ دیکھو یہ کا فرنماز پڑھ رہے ہیں۔دل تو پہلے ہی بھرا ہوا تھا ایسے فقرے سن کر اور بھی درد پیدا ہوا اور خوب دعا کی۔جب نماز ختم ہوئی اور میں نے بائیں جانب السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہا تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نوجوان آگے بڑھا اور اس نے نہایت محبت سے مصافحہ کیا اور بتایا کہ میں مڈل پاس ہوں اور فلاں گاؤں میں مدرس ہوں اور میں آج کا مناظرہ سن کر احمدیت قبول کرتا ہوں۔میری بیعت لے لی جائے۔اس نوجوان کے اس بیان سے مجھے بے حد مسرت ہوئی مگر تعجب بھی تھا کہ اس ہنگامہ آرائی اور فتنہ پردازی کے ماحول کے باوجود اللہ تعالی نے اس شخص کی کس طرح رہنمائی فرما دی ہے۔اس سے دریافت کیا کہ آپ کو کس چیز نے زیادہ اپیل کی ہے اس نے بتایا کہ میں مولویوں کے پاس پیج پر بیٹھا تھا اور ان کی سب باہمی باتیں سنتا رہا ہوں۔جب آپ تقریر کرتے تھے تو وہ آپس میں ایک دوسرے کو کہتے تھے کہ منڈا گلاں تاں بڑیاں پکیاں کروائے یعنی یہ نو جو ان باتیں تو بہت مدلل کرتا ہے۔پھر کہتے تھے کہ ہمارے مناظر کو جواب نہیں سوجھ رہا۔لوگوں پر کیا اثر ہو رہا ہے۔جب آپ آخری تقریر کیلئے اٹھنے لگے تو علماء نے سٹیج پر مشورہ کیا کہ اس کو آخری تقریر کرنے کا موقعہ ہر گز نہ دیا جائے ورنہ لوگ احمدی ہو جائیں گے۔اس پر تجویز ہوئی کہ شیخ پر سے تالیاں بجا کر شور کر دیا جائے کہ مرزائی ہار گئے۔مرزائی ہار گئے۔چنانچہ اس مشورہ کے مطابق عمل ہوا اور عوام نے بھی شور کر دیا اور آپ کی تقریر نہ ہوسکی اور جلسہ برخاست ہو گیا۔اس نوجوان نے بتایا کہ میں نے جو کچھ دیکھا اور جو کچھ سنادہ مجھے احمدی بنانے کیلئے کافی ہے۔چنانچہ اس نے فارم بیعت پر کر دیا اور ہم نے اسے کہا کہ جمعہ کے روز قادیان مسجد اقصیٰ میں آجا ئیں حضرت خلیفہ اسیح ,, الثانی کا خطبہ بھی سنیں اور دستی بیعت بھی کر لیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ اس واقعہ کے بعد جو گویا میرے پہلے با قاعدہ مناظرہ کا واقعہ ہے مجھے لوگوں کے شور و غوغا سے کبھی مایوسی نہیں ہوئی۔کون جانتا ہے کہ کس سعادت مند دل کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے سچائی کے قبول کرنے کیلئے کھول دیا ہے۔مبلغین سلسلہ کو کبھی بھی دشمنوں کے حربوں سے گھبرانا نہیں چاہئے اور کبھی یہ خیال نہ کرنا چاہئے کہ لوگ حق کو قبول نہیں کریں گے۔الفرقان اکتوبر ۱۹۶۸ء صفحه ۴۳ تا ۴۵) اس تحریر سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مولانا نے پندرہ سولہ سال کی عمر میں پہلا مناظرہ کیا اور مخالفوں کے بے جا شور و غوغا کے باوجود ایک سعید روح کو تو فوراً ہی اللہ تعالیٰ نے قبول حق کی سعادت بخشی _ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ