حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 93 of 923

حیاتِ خالد — Page 93

حیات خالد 99 مناظرات کے میدان میں پہلا مناظرہ (اندازاً ۱۹۱۹ء ۱۹۲۰ء) حضرت مولانا نے اپنے پہلے با قاعد و مناظرہ کا تذکرہ بڑے دلچسپ انداز میں فرمایا ہے آپ لکھتے ہیں :- مدرسہ احمدیہ میں تقریر کی مشق کا اچھا انتظام تھا۔ہفتہ وار اجلاسوں میرا پہلا باقاعدہ مناظرہ رہ میں طلبہ کو باری باری تقریر کا موقعہ ملتا رہتا تھا۔مجھے اور میرے بعض اور ساتھیوں کو تقریر کا بہت شوق تھا۔مجھے خوب یاد ہے اور اب بھی وہ نظارہ میری آنکھوں کے سامنے ہے کہ میں موضع انگل متصل قادیان کی طرف تنبا نکل جایا کرتا تھا اور گندم کے لہلہاتے کھیتوں کے کنارے کھڑے ہو کر اور گندم کے پودوں کو حاضرین تصور کر کے تقریر کی مشق کیا کرتا تھا۔اس طرح تقریر سے مضمون ذہن میں راسخ ہو جاتا تھا اور پھر مجلس میں بیان کرنے میں سہولت رہتی تھی۔علاوہ از میں ہم لوگ ارد گرد کے دیہات میں تبلیغ کیلئے جایا کرتے تھے اور اس طرح پنجابی میں تقریروں کی مشق ہوتی رہتی تھی۔قادیان کے قریب جانب غرب ایک گاؤں ڈلہ ہے اس میں عام آبادی سکھوں کی تھی چند گھر مسلمانوں کے بھی تھے جن میں سے قاضی خاندان کے کچھ افراد احمدیت میں داخل ہو چکے تھے۔وہاں کے پرانے لوگوں میں سے مجھے میاں عطار بی صاحب خوب یاد ہیں۔اس گاؤں میں ایک گھر اہلحدیثوں کا بھی تھا۔ان میں سے ایک نوجوان (جو بعد ازاں احمدی ہو گیا ) بہت جو شیلا تھا۔ہم جب اس گاؤں میں تبلیغ کیلئے جایا کرتے تھے تو وہ اہلحدیث نوجوان سوالات کا سلسلہ شروع کر دیتا تھا اس طرح خاصی رونق ہو جاتی تھی اور بعض دفعہ کافی دیر تک گفتگو جاری رہتی۔ہوتے ہوتے اس نے اہلحدیثوں کے ایک مولوی محمد امین صاحب کو ہمارے مقابلہ پر لانا شروع کر دیا اور وہاں پر مناظرہ کی صورت پیدا ہونے لگی اور متعدد مرتبہ کوٹھوں کی چھتوں پر بالمقابل تقاریر ہوا کرتی تھیں بعد ازاں تو اس گاؤں میں خاصے مناظرے بھی ہوتے رہے ہیں جب کہ ابھی عزیزم مولا نا محمد سلیم صاحب فاضل (جو اسی گاؤں کے باشندے ہیں) سکول کی ابتدائی جماعتوں میں تھے اور وہ ہمیں ساتھ لے جایا کرتے تھے۔یہ باتیں ذرا دیر بعد کی ہیں مگر میں نے اوپر جن ایام کا ذکر کیا ہے وہ بالکل ابتدائی تھے اور میں ابھی مدرسہ احمدیہ کی تیسری چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔ان دنوں بھی ہماری دیہاتی تبلیغ ایک رنگ