حیاتِ خالد — Page 903
حیات خالد 884 گلدستۂ سیرت علم بھی تھے سارے راستہ اس نے مجھ سے بات کرنی بھی گوارا نہ کی۔( یہ ایک غیر از جماعت عرب دوست کے بے حد اصرار پر آئے تھے ) خیر ! یہاں پر حسب پروگرام پہلے ربوہ دکھلایا۔میں نے محسوس کیا که د یوهہ دیکھ کر مصری طالب علم کی سرد مہری کچھ کم ہوئی ہے۔ربوہ کی سیر کے بعد حضرت مولوی صاحب سے ملاقات تھی وہ ملاقات نہایت ہی شاندار رہی دو اڑھائی گھنٹہ عربی میں ہی مولوی صاحب نے گفتگو فرمائی۔تمام لوگ حضرت مولوی صاحب سے بہت ہی متاثر ہوئے بعد از گفتگو مصری طالب علم کی سرد میری بالکل ختم تھی۔کمرہ سے باہر آ کر مجھے کہا میں نے اتنی عمدہ عربی بولنے والا پاکستانی عالم نہیں دیکھا۔اس پر ایک فلسطینی لڑکے نے کہا کہ اس شخص کا حافظہ بھی غیر معمولی ہے۔اسے وہاں سے لوٹے اتنا عرصہ گزر گیا ہے پھر بھی پرانی باتیں اچھی طرح یاد ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے اس انداز سے ان کے سوالات کے جوابات دئے اور تسلی کرائی کہ ان کے رویے اور ان کے چہرے ہی بدل گئے۔پھر جب حضور سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث سے ان کی ملاقات ہوئی تو ان کے تاثرات کا تو عالم ہی عجیب ہو گیا۔حضور کی شخصیت سے اتنے متاثر ہوئے کہ بیان نہیں ہو سکتا۔کئی طالب علم بعد میں نہایت رقت کے ساتھ آبدیدہ ہو کر حضور سے مصافحہ کرتے اور گلے ملتے تھے۔حضرت مولوی صاحب کی یادوں کے چند خا کے پیش ہیں اللہ تعالی انہیں جنت الفردوس میں نہایت اعلیٰ مقام سے نوازے اور پسماندگان کا ہمیشہ حامی و ناصر رہے۔آمین *۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔⭑ استاذی المحترم محترم مولانا غلام باری صاحب سیف) میں جب جامعہ میں داخل ہوا تو اس وقت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب ہمیں تغییر اور کلام کا مضمون پڑھاتے تھے۔مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے کہ تغییر کے پیریڈ میں حضرت مولانا صاحب با وضو ہو کر تشریف لاتے تھے اور بعض اوقات پانی کی شرعی اور اس کے قطرات آپ کے چہرے پر نظر آتے تھے۔تعلیم کے دوران مجھے استاذنا اکترم مولانا ابوالعطاء کے ساتھ کئی مواقع پر جلسوں میں جانے کا