حیاتِ خالد — Page 904
حیات خالد 885 گلدستۂ سیرت اتفاق ہوا۔اس وقت بھی میں نے دیکھا کہ آپ تقریر سے پہلے وضو فرماتے۔میں نے آپ کے مناظرے بھی سنے ہیں۔آپ تقریر اور مناظرے کے دوران کبھی اسلام اور احمدیت کی تعلیم کے خلاف نہیں کرتے تھے۔میری مراد اُس سے یہ ہے کہ مد مقابل پر طعن و تشفیع سخت الفاظ کا جواب بھی آپ ان کی زبان میں نہیں دیتے تھے بلکہ نہایت درجہ شرافت اور متانت سے آپ تقریر فرماتے۔ایک دفعہ مولوی ثناء اللہ امرتسری نے چیلنج کیا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی خود مجھ سے مناظرہ کریں اور اگر کوئی نمائندہ بھجوائیں تو اس کو یہ تحریر دیں کہ اس کی شکست میری شکست ہوگی۔چنانچہ حضرت خلیفہ سیح الثانی نے حضرت مولانا صاحب کو اپنا نمائندہ مقرر فرمایا اور آپ کو جو تحریر دی اس کا مفہوم یہ تھا کہ مولوی صاحب ( مولوی ابوالعطاء صاحب جالندھری۔ناقل ) میرے نمائندے ہیں۔ان کی فتح میری فتح اور ان کی شکست میری شکست ہوگی۔ان کی زبان میری زبان۔حضرت مولوی صاحب عالم باعمل تھے۔آپ فریضہ تبلیغ عبادت سمجھ کر بجا لاتے تھے۔آپ سلسلہ کی خدمت اتنے شوق اور ایسے خلوص سے کرتے گویا یہ آپ کا ذاتی کام ہے۔تقریر کے وقت آپ کے چہرے سے جوش اور نور چپکتا تھا جس سے غیر بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا تھا۔آپ سفر و حضر میں باقاعدگی سے نماز تہجد ادا کرتے تھے۔آپ کی نماز میں خشوع و خضوع سے پر ہوتی تھیں۔آپ صاحب کشف و رویا تھے۔بعض اوقات آپ نہایت انکسار سے اپنے الہامات کا تذکرہ بھی فرماتے۔ایک بار میں حاضر ہوا تو آپ نے یہ شعر لکھ کر اپنے کمرے میں لٹکا رکھا تھا۔ہے ملی ہے غیب سلامت مجھ کو بشارت گر تو ات مرد سلامت ! میرے دریافت کرنے پر فرمایا مجھے "السلام علیکم“ کا الہام ہوا ہے۔ایک بار میں احمد نگر کسی جلسہ کے لئے گیا۔میرے ساتھ میرے ایک سینئر رفیق کا ر بھی تھے۔حضرت مولوی صاحب نے مجھے پیغام بھجوایا کہ جاتے وقت مجھے مل کر جانا چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔میرے محترم استاد حضرت مولوی صاحب نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ تمہارے کتنے بچے ہیں۔میں نے عرض کیا صرف لڑکیاں ہی ہیں۔اس وقت میرے اس ساتھ نے ایک چبھتا ہوا فقرہ کہا۔بات آئی گئی ہو گئی۔اگلے روز حضرت مولوی صاحب خود مجھے ملے اور بڑے پیار سے راز دارانہ انداز میں فرمایا کہ اس وقت مجھے تمہارے اس دوست کے فقرے سے بڑی تکلیف ہوئی تھی۔چنانچہ میں نے