حیاتِ خالد — Page 902
حیات خالد 883 گلدستۂ سیرت بہت زبر دست آدمی تھا۔یونہی تو حضرت مصلح موعودؓ نے ”خالد احمدیت کا خطاب نہیں دیا تھا۔میری حضرت مولوی صاحب سے بے تکلفی کا آغاز اس وقت ہوا جب پہلی بار میں وقف عارضی پر گیا۔حضرت مولوی صاحب ان دنوں اس شعبہ کے انچارج تھے۔پھر آہستہ آہستہ بے تکلفی بھی ہوتی گئی اور تعلقات میں گہرائی بھی آتی گئی۔ایک دفعہ میں سمبڑیال وقف عارضی کے سلسلہ میں گیا ہوا تھا تو ان کے رعب اور علمیت کی دھاک کا عجیب واقعہ دیکھا۔بات یوں تھی کہ ایک غیر از جماعت مولوی صاحب سے میری بحث چل رہی تھی اور ان کی شرط یہ تھی کہ وہ خواہ جتنے بھی مددگار لے آئیں جماعت کی طرف سے میں اکیلا ہی ہوں گا۔ابھی تک یاد ہے وہ منگل کا دن تھا اور مذکورہ مولوی صاحب سے شام کو نشست تھی۔پتہ چلا کہ وہ پندرہ سولہ مولویوں کے ساتھ آ رہے ہیں۔طبیعت میں گھبراہٹ بھی ہوئی۔دعا بھی کی کہ اللہ سرخرو فرمائے۔اتنے میں دو پہر کے وقت حضرت مولوی صاحب۔جو دورہ پر سیالکوٹ جارہے تھے، سمبڑیال مجھے ملنے کے لئے رک گئے۔ان سے بھی صورت حال کی وضاحت کی انہوں نے بہت تسلی دی۔شام کو مولوی صاحب کا واپسی کا پروگرام تھا۔غیر از جماعت مولوی صاحب کو بھی پتہ چل گیا کہ حضرت مولوی صاحب تشریف لائے ہوئے ہیں ان کا پیغام آیا میری تو یہ شرط ہے کہ صرف آپ یعنی خاکسار مرزا فرید احمد سے بات چیت کروں گا جواباً عرض کی کہ شرط طے ہے اور صرف میں ہی گفتگو کروں گا۔آپ تو واپس جارہے ہیں۔پر وہ مولوی صاحب بات چیت پر آمادہ نہ ہوئے اور غیر از جماعت دوستوں کے سمجھانے پر بھی یہی کہتے رہے اللہ دتا ( یہ مولوی صاحب کا پرانا نام تھا ) آ گیا ہے۔سی اس لڑکے کو سکھلا گیا ہے کتا بیں دے گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔جب بات نہ بنی تو ہم نے پروگرام بنایا کہ جلسہ کرتے ہیں چنانچہ حضرت مولوی صاحب کو روک لیا گیا اور سمبڑیال میں نہایت شاندار جلسہ کا انعقاد ہوا۔سینکڑوں غیر از جماعت دوستوں نے شرکت کی۔حالات کی نوعیت کا حضرت مولوی صاحب کی طبیعت پر بہت اثر تھا۔آپ کی تقریر نہایت معرکہ آرا تھی ! نہایت پر جلال اور سحر انگیز ! کیا احمدی کیا غیر احمدی سبھی مسحور ہو گئے ایک نشہ تھا جسے میں کبھی بھول نہیں سکتا!!! جب میں میڈیکل کالج کا طالب علم تھا تو بسا اوقات غیر از جماعت طالب علم لاہور سے ربوہ لایا کرتا تھا۔ایک دفعہ ایک دیگن عرب طلباء کی ربوہ لایا۔ہمارے ہمراہ ایک نہایت متعصب مصری طالب