حیاتِ خالد — Page 890
حیات خالد 871 گلدستۂ سیرت یقینا دین کی روشنی کا وقت آن پہنچا ہے تو ہمارے درخت کو اس کے پھلوں سے پہچان لے گا۔اس الہامی پیشگوئی کے بعد مذہبی دنیا میں یکا یک نصرت دین کے لئے عظیم الشان روحانی انقلابات کا دروازہ کھل گیا۔علاوہ ازیں حضرت اقدس کے عہد مبارک ہی کے دوران ۱۹۰۱ء میں حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس اور ۱۹۰۴ء میں مدیر البشری حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی ولادت با سعادت ہوئی پھر خلافت اولی میں حضرت ملک عبد الرحمن صاحب خادم ۱۳ نومبر ۱۹۱۰ء کو پیدا ہوئے۔ان تینوں بزرگوں کو خارق عادت طور پر وسیع پیمانہ پر خدمات دینیہ بجا لانے کی توفیق ملی اور تینوں بطل احمدیت حق و باطل کے بے شمار معرکوں میں فتح نصیب جرنیل ثابت ہوئے جس پر سید نا محمود الصلح الموعود نے اظہار خوشنودی فرمایا اور ۲۸ دسمبر ۱۹۵۶ء کے جلسہ سالانہ ربوہ کے موقع پر خالد کے قابل فخر اعزاز سے نوازا۔اس مبارک موقع پر خاکسار شیخ پر حضرت خادم کے بالکل ساتھ آپ کے قدموں میں بیٹھا ہوا تھا۔میں نے دیکھا جو نہی آپ نے حضرت مصلح موعودؓ کی زبان مبارک سے اپنا نام سنا آپ رقت سے بھر گئے اور آنکھیں فرط عقیدت سے اشکبار ہوگئیں۔مرنے کے بعد ہم کو زمیں میں نہ کر تلاش " ہم عارفوں کے سینہ میں رکھتے ہیں بودوباش خالد احمد بیت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جن کی ایمان افروز سوانح قارئین کے ہاتھوں میں ہے۔جولائی ۱۹۳۱ء تک احمدی دنیا میں اللہ دتا کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔ازاں بعد حضرت مصلح موعود کے حکم پر بلا دھر بیہ میں اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے فلسطین تشریف لے گئے تو آپ نے اپنے فرزند اکبر ( اور میرے کلاس فیلو ) جناب مولوی عطاء الرحمن صاحب فاضل کے نام کی مناسبت سے اپنا نام ابو العطاء رکھ لیا ازاں بعد آپ نے اپنے تمام صاحبزادوں کے نام عطا کی اضافت سے رکھے۔علامہ ابوالحسن الجزری ابن اثیر (متوفی ۱۲۰۹ء) کی تحقیق کے مطابق حضرت خالد بن ولید کی کوئی اولاد نہ تھی انہوں نے اپنا گھوڑا اور ہتھیار خدا کی راہ میں وقف کر دیے۔(اسدالغابہ زیر لفظ خالد ) لیکن حق تعالٰی نے حضرت مولانا ابو العطا ء کو نرینہ اولاد سے بھی نوازا جنہیں آپ نے دین کے لئے وقف فرما دیا اور جو سب خدا تعالی کے فضل و کرم سے احمدیت کے فدائی وشیدائی اور اس کی وسیع اشاعت میں سرگرم عمل ہیں اور حدیث نبوی " إن من نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَى عَبْدِهِ أَن يُشْبِهَهُ ولدة (جامع الصغیر للسیع ملی جلد اصفحہ ۱۰۰) کے مطابق ہیں خصوصا مخدومی مولانا عطاء الحبیب صاحب