حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 891 of 923

حیاتِ خالد — Page 891

حیات خالد 872 گلدستۂ سیرت را شد ایم اے شاہد امام بیت الفضل لندن جنہیں یہ خصوصی اعزاز بھی حاصل ہے کہ جہاں ان کے والد بزرگوار حضرت مولانا ابوالعطاء نے ۲۱ مارچ ۱۹۵۷ء کو مجلس شوری ربوہ میں مجلس انتخاب خلافت کا وہ دستور العمل پڑھ کر سنایا جو حضرت مصلح موعود نے منظور فرمایا تھا وہاں انہیں ۲۲ / اپریل ۲۰۰۳ء کے انتخاب خلافت خامسہ کے شہرہ آفاق اجلاس میں سیکرٹری مجلس انتخاب کے فرائض بجالانے کی سعادت نصیب ہوئی۔ذلِک فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاءُ چاہے کسی کو شاہ کرے یا گدا کرے طاقت نہیں کسی کو کہ چون و چراں کرے حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب رحمہ اللہ جیسی جلیل القدر شخصیت کے علمی مقام کا اعتراف معاندین احمدیت کو بھی ہے۔چنانچہ ایک احراری مؤلف جناب نذیر مجیدی صاحب لائل پوری رقمطراز ہیں:۔راقم الحروف کو حقیقت کے اعتراف میں کبھی ہچکچاہٹ نہیں ہوئی خواہ وہ حقیقت کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو۔قادیانی فرقہ کے رئیس المبلغین اور استاذ المناظرین مولوی اللہ دتا جالندھری کو راقم انہیں مستثنیات میں سے سمجھتا ہے جو اس کم مائیگی کے زمانے میں نادر الوجود ہوتے ہیں اور جہاں تک میری ذاتی رائے کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ اگر مولوی اللہ دتا نہ ہوتے تو نہ شاید تفسیر صغیر وجود میں آسکتی اور نہ کبیر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میری معلومات ناقص ہوں۔بہر حال تذکرہ یہ تھا کہ قادیانی فرقے میں مولوی اللہ دتا کا دم غنیمت ہے۔انہوں نے اہل علم کی سی راہ نکالی اور اللہ دتا سے مولانا ابوالعطاء جالندھری بن گئے“۔شاہ جی صفحه ۳۶۴ ناشر جدید بک ڈپو اردو بازار لاہور طبع اول ۱۹۶۵ء) جناب نذیر مجیدی صاحب کی اس تحریر سے بالواسطہ طور پر ایک طرف تفسیر کبیر وصغیر کی عظمت شان اور جلالت مرتبت کا پتہ چلتا ہے تو دوسری طرف حضرت مولانا ابو العطاء کے عالم ربانی ہونے کا ثبوت بھی مہیا ہو جاتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ اس میں ناقص معلومات کی بناء پر تفسیر کبیر وصغیر کو جو حضرت مصلح موعودؓ کے علوم باطنی کا بر اور است اعجاز ہے اسے مولانا کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے۔جناب نذیر مجیدی صاحب کے علاوہ ضلع جھنگ کے مشہور مؤرخ و صحافی جناب بلال زبیری صاحب اپنی کتاب " تاریخ جھنگ "صفحہ ۴۵۱۔مطبوعہ تمبر ۱۹۷۶ء میں ربوہ کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔اس قصبہ سے ایک روز نامہ، پانچ ماہنامے شائع ہوتے ہیں۔مرزا ناصر احمد مولانا ابوالعطاء ونسیم سیفی