حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 881 of 923

حیاتِ خالد — Page 881

حیات خالد 862 گلدستۂ سیرت وجہ سے مخالفین کسی اعتراض کا موقعہ نہ پائیں۔اور یہ گروہ مخلصین بھی اپنی تربیت کے مواقع کو بسا غنیمت جان کر بانشراح قلب قبول کرتے تھے۔ایسا ایک واقعہ ذاتی طور پر میرے علم میں ہے۔حضرت مصلح موعود موسم گرما میں ایک وفعہ ڈلہوزی میں تشریف رکھتے تھے۔جناب مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے غیر مبائعین کے گروہ کے سر براہ بھی ان دنوں وہیں تھے۔اور موسم گرما آپ وہاں گزارا کرتے تھے۔حضور کو علم ہوا کہ مولانا ابو العطاء صاحب جناب مولوی صاحب سے ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ نے مولانا صاحب کو ایک نصیحت فرمائی جو آب زر سے رقم کئے جانے کے قابل ہے۔جس سے آپ کا علوا خلاق اس رنگ میں ظاہر ہوتا ہے کہ باوجود یہ کہ جناب مولوی صاحب سے ایک ربع صدی سے شدید اختلاف عقائد تھا اور یہ حقیقت تھی کہ حضور پر تکلیف دہ اعتراضات کرنے والے کو دوسرا گروہ ہاتھوں ہاتھ لیتا تھا اور ان کی مالی معاونت بھی کرتا تھا۔لیکن اس کے باوجود حضور کے قلب صافی میں جناب مولوی محمد علی صاحب کے اعزاز و تکریم کا جذبہ اس وجہ سے موجزن تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے۔حضور نے مولانا ابوالعطاء صاحب سے فرمایا کہ اگر آپ اس وجہ سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں کہ مولوی صاحب حضرت اقدسن علیہ السلام کے قدیم صحابہ میں سے ہیں تو اس میں حرج نہیں۔لیکن اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ ان سے اختلافی مسائل پر گفتگو کریں تو ایسی گفتگو کرنا ان کے پایہ کے کسی قدیم صحابی مثلاً حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کے لئے تو مناسب ہے آپ کے لئے نہیں۔محترم مولانا ابوالعطاء صاحب کی درخشندہ سیرۃ کا ایک نمایاں پہلو تخت گاہ رسول قادیان سے والہانہ محبت ہے۔آپ اس کے نتیجہ میں پاکستان سے کئی دفعہ قادیان جلسہ سالانہ پر یا کسی اور وقت زیارت قادیان کیلئے تشریف لائے اور ایک دفعہ آپ یہاں اعتکاف بیٹھے اور عید الفطر میں شریک ہوئے۔آپ یہاں آتے تو احباب میں خدمت دین کا جذبہ ابھارنے کی کوشش کرتے۔مدرسہ احمدیہ کے طلباء سے مل کر خوش ہوتے۔ان سے دینی مسائل کا تذکرہ کرتے اور اپنے طویل تعلیمی تجربہ کی وجہ سے ان کی علمی ترقی کے بارے میں مفید تجاویز ذمہ دار افراد کو بتاتے تھے۔غفر الله له ورضى عنه وارضاه - آمین