حیاتِ خالد — Page 880
منتخب مضامین حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب کی سیرت اور پاکیزہ زندگی کے بارے میں لکھنے کے لئے احباب کرام کو تحریک کی گئی تو لگ بھگ ڈیڑھ صد ا حباب نے اپنی تحریریں بھجوائیں۔کسی کی سیرت پر لکھنے کے بارے میں شاید یہ تعد ا در یکارڈ کی حیثیت رکھتی ہو۔ان میں سے صرف چند مضامین کا انتخاب اس غرض سے کیا گیا ہے کہ ان کا پورا متن دیا جائے۔یہ ایک بہت مشکل انتخاب تھا کیونکہ ہر مضمون حضرت مولانا کی محبت میں گندھا ہوا تھا۔اور ہر گلے را رنگ و بوئے دیگر است“ کے مصداق تھا۔دیگر تمام مضامین الگ الگ واقعات کی شکل میں اس کتاب میں مختلف عنوانات کے تحت آگئے ہیں۔وو حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی قادیان) خلفاء کرام، روحانی مملکت کے عظیم سربراہ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةُ اور آیت استخلاف والے اپنے فرائض کو اپنے نائین کے ذریعہ سرانجام دیتے ہیں۔یہ نائین یعنی جرنیل اور کمانڈرگروہ علماء ہوتا ہے جو اپنی صدق شعاری۔شب زندہ داری اور شب و روز کی محنت و عرقریزی اور بیدار مغزی کے ذریعہ دلائل و براہین قرآنیہ کے ساتھ مسلح ہو کر اور اپنی پر محبت و خلوص و جذب اور وعظ ونصیحت سے دفاع اسلام کرتے ہیں اور تعلیم و تربیت اور تبلیغ وارشاد کے ذریعہ اس روحانی مملکت کی توسیع و استحکام کا موجب بنتے ہیں۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب خلافت ثانیہ کے عہد کے جلیل القدر اور صف اول کے مجاہدین میں سے تھے جن پر سلسلہ احمدیہ کو ناز ہے اور جن کے نام نامی تاریخ احمدیت میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔اس وجہ سے بھی کہ حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کو بھی آپ کی ممتاز خدمات کی وجہ سے خالد احمدیت قرار دیا۔آپ نے فلسطین میں، (متحدہ) ہندوستان میں اور پھر تقسیم ملک کے بعد پاکستان میں ممتاز رنگ میں لسانی اور قلمی خدمات کی سعادت پائی۔مخالفین پر آپ کی ایسی دھاک بیٹھ گئی تھی کہ ان کو یا رائے مقاومت نہ تھی۔اپنے ان مجاہدین کی تربیت کی طرف حضرت مصلح موعود کی خصوصی توجہ رہتی تھی تا ان کے کسی سہو کی