حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 868 of 923

حیاتِ خالد — Page 868

حیات خالد 849 گلدسته سیرت تھی بڑی مشکل سے جواب دیا کہ بڑے ابا جان میں تو ٹھیک ہوں آپ کا کیا حال ہے؟ تو مسکرا پڑے اور فرمایا میں ٹھیک ہوں بچڑا۔ہمارے سامنے ہی بڑے ابا جان کو پھر خون کی الٹی آئی لیکن بڑے ابا جان انتہائی خاموشی اور صبر سے تکلیف برداشت کر رہے تھے۔میری امی بار بار بڑی امی کو کہہ رہی تھیں کہ طاہر بھائی جان، ہمارے بڑے چا جان جو کراچی میں تھے کو فون کر دیں کہ ابا جان کی طبیعت بہت خراب ہے لیکن بڑے ابا جان نے سختی سے منع کر دیا کہ کسی کو تکلیف نہیں دینی۔اس وقت چچی جان قامتہ شاہدہ اپنی بچیوں کے ساتھ اور دو پھوپھیاں اور دو پھوپھا جان مع اپنے بچوں کے موجود تھے۔شام کو خوب ٹھنڈ ہو گئی۔آندھی وغیرہ آئی تو بڑے ابا جان کہنے لگے کہ کھانا کھا کر سب اپنے اپنے گھر چلے جائیں۔بڑے ابا جان نے ہم سب کو رخصت کرتے وقت ایسی نظروں سے ہمیں دیکھا کہ جیسے سب کو خدا کے سپر د کر رہے ہوں اور ان کے آخری الفاظ جو ہم سب سے کہے تھے اچھا بچڑ انی امان اللہ۔وہ نظریں آج بھی نہیں بھولتیں۔رات کے ایک بجے کے بعد یہ خبر آئی کہ بڑے ابا جان فوت ہو گئے ہیں تو راضی رہنے کا درس بھی تو انہوں نے ہی دیا تھ۔یوں لگتا تھا کہ دنیا نلی بڑی امی جان نے جس صبر اور ہمت کا مظاہرہ کیا وہ خالد احمد سے کی اہلیہ ہونے کے عین مطابق تھا۔ہم سب کو حوصلہ دیتی رہیں۔شفتو بڑے اہا جان کا وجود ایسی مقناطیسی کشش رکھتا تھا کہ اپنے تو اپنے غیر بھی ان کی طرف کھنچے چلے۔آتے تھے۔وفات کے بعد ادا کر کہا کا : کہ جسم اور دو اور محبت سے کرتے تو معلوم ہوتا تھا کہ ہمارا سے جدا نہیں ہوا بلکہ بہت سے اور بھی بیم اور بے سہارا ہو گئے ہیں۔جنازے والے حلق سے یہ جملے ایک عورت دو تین بچوں کے ساتھ بیٹھی روئے چلی جارہی تھی کسی نے پوچھا کہ آپ کون دو ہیں تو کہنے گی کہ میں تو آج بے سہارا ہو گئی ہوں آج ہی مجھے سکول سے آکر میرے بچے نے بتایا کہ چھوٹے حضور فوت ہو گئے ہیں تو میں بے یقینی کی حالت میں چلی آئی کہ خدا کرے یہ خبر جھوٹی ہو لیکن یہ تو ی ہے میں نے اس سے پوچھا کہ ان کو چھوٹے حضور کیوں کہتی ہیں۔تو کہنے لگی کہ حضور جب بھی غرباء کے محلے میں آیا کرتے تھے تو مولوی صاحب ان کے ساتھ ہوتے تھے اور بچوں کو بے حد پیار کیا کرتے تھے تو بچوں نے ان کو چھوٹے حضور کہنا شروع کر دیا۔بڑے ابا جان کی وفات پر بچے تو غمزدہ تھے ہی بڑوں کی حالت دیکھ کر بھی حیرت ہوتی تھی ہم تو یہی سمجھتے تھے ہم سے زیادہ بڑے ابا سے کوئی پیار کر نہیں سکتا۔مجھے یاد ہے کہ ہمارے خالو جان شیخ مبارک احمد صاحب فاضل جب افسوس کرنے عورتوں کی طرف