حیاتِ خالد — Page 867
حیات خالد 848 گلدسته سیرت ہچکچاہٹ ظاہر کی تو زور دے کر کہا کہ روز ایک خط دعا کے لئے لکھو۔تب پھر ولید نے با قاعدہ روزانہ خط لکھنا شروع کر دیا۔ایک بار میں نے ایک جوتی خریدی تو کچھ دن بعد بڑے ابا جان خواب میں نظر آئے کہ اپنی بڑی امی جان کے لئے بھی ایسی جوتی خرید کر ان کو دو بہت خوش ہوں گی۔جب میں نے بڑی امی جان کو ویسی جوتی لے کر دی تو وہ کہنے لگیں کہ ایسی شوخ جوتی ہے تم ہی پہن لو تو میں نے کہا کہ یہ تو بڑے ابا جان نے مجھے خواب میں آ کر کہا تھا اس لئے یہ جوتی آپ کو پہنی ہی پڑے گی۔۱۹۷۷ ء اپریل میں بڑے ابا جان کی طبیعت خراب ہونی شروع ہوئی۔آخر وہ دن بھی آ پہنچا جس کے بارے میں میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔۲۸ مئی کو بڑے ابا جان نے دفتر کے آدمی کے ذریعے پیغام بھیجا کہ کل میں ہسپتال چیک اپ کے لئے آرہا ہوں بڑی امی بھی ساتھ ہوں گی تو اس کے بعد آپ کے گھر آؤں گا۔۲۹ مئی کی دو پہر تک ہم نے بڑے ابا جان کا انتظار کیا پھر امی کو پریشانی ہونے لگی۔ہی کو سائیکل پر بھیجا کہ جاؤ ان کے گھر جا کر پتہ کر کے آؤ کیا بات ہے؟ ہی جب ان کے گھر سے واپس آیا تو بہت گھبرایا ہوا تھا۔امی نے پوچھا کہ کیا ہوا ہے کہنے لگا مجھے تو بڑے ابا جان نے کچھ نہیں بتایا۔ابو جان کا خط اور تصویریں لائیپیر یا سے آئی ہوئی تھیں وہ مجھے دکھاتے رہے اور خوش ہو رہے تھے لیکن بڑے ابا جان کی آواز بہت ہلکی تھی اور لیٹے ہوئے تھے۔جب ہی واپس آنے لگا تو کہنے لگے اپنی امی کو کہنا شام کو آئیں اس وقت اتنی تیز دھوپ میں بالکل نہ باہر نکلیں اور تانگے پر آئیں پیدل نہ آئیں۔واپس آتے وقت بڑی امی نے بتایا کہ تمہارے بڑے ابا جان تو بہت بیمار ہیں ان کو ہسپتال سے آتے ہی خون کی بہت بڑی الٹی آئی ہے تو اپنی امی سے کہو کہ آجائیں۔آپ بہت گھبرائی ہوئی تھیں۔ہی نے جب یہ احوال سنایا تو ہم فورا جانے کے لئے تیار ہو گئے تو ہی نے کہا کہ بڑے ابا جان نے بہت تاکید کی تھی کہ اتنی دھوپ میں نہ آئیں اور تانگے پر عصر کے بعد آئیں۔کیسا پیار اور کیسا خیال تھا ہمارا کہ حیران ہوتی ہوں۔بڑی مشکل سے وہ دو پہر کاٹی جو صدیوں پر بھاری تھی۔عصر ہوتے ہی ٹانگہ پر فورا بڑے ابا جان کے پاس پہنچے تو پہنچتے ہی بڑے ابا جان نے جو محن میں چار پائی پر لیٹے تھے بے حد نحیف آواز میں پو چھا کہ تانگے پر آئے ہو ناں؟ وہ وقت اور وہ حال آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے بڑے ابا جان نے مجھے پاس بلایا میں سامنے والی چار پائی پر بیٹھی تھی بڑے ابا جان نے اپنا کانپتا ہوا ہاتھ میرے سر پر رکھ کر پوچھا بچڑا کیا حال ہے ٹھیک ہو؟ اور میں نے جو بڑے اہا جان کو اتنی کمزور حالت میں دیکھ کر ڈری بیٹھی