حیاتِ خالد — Page 783
حیات خالد 772 گلدسته سیرت بھی اجازت لے کر بیٹھ گیا۔حضرت مولانا صاحب موصوف مہمان نوازی کی غیر معمولی صفت سے متصف تھے۔اس لئے آپ نے پہلے ہی چائے اور بسکٹوں وغیرہ کا کہ رکھا تھا۔سخت گرمی کا موسم تھا۔اچانک بجلی بند ہو گئی۔جب آپ سوالات کے جوابات دیتے دیتے تھک گئے تو مداقا فرمانے لگے، بھائی ! نہ چائے بسکٹ آتے ہیں۔نہ بجلی آتی ہے اور نہ ہی یہ لوگ جاتے ہیں۔آخر ماجرا کیا ہے۔آپ کے اس پر مزاح تبصرے نے گرمی کی ساری تکلیف زائل کر دی۔ابھی حضرت مولانا مسکرا مسکرا کر یہ جملے ادا ہی فرما رہے تھے کہ چائے بسکٹ وغیرہ آگئے اور ہم چائے وغیرہ پی کر اور مولانا سے برکات حاصل کر کے واپس گھر کو لوٹ آئے۔ه محترم مولانا عزیز الرحمان منگلا صاحب مرحوم مربی سلسلہ نے الفضل میں شائع شدہ ایک مضمون میں تحریر فرمایا : - جب میرا تبادلہ سرگودھا ہوا تو وفات سے تین دن پہلے آپ سے دفتر کے برآمدہ میں ملاقات ہوئی میں نے عرض کیا، آپ سرگودھا تشریف لا ئیں۔مرغ کھلاؤں گا فرمایا ” کیا مرغ یہاں نہیں کھلایا جاسکتا ؟ اور ہنس کر اندر چلے گئے۔یہ میری اور ان کی آخری ملاقات تھی۔وہ منظر جب وہ مسکرا کر اندر گئے اور میں ربوہ سے واپس سرگودھا آ گیا، مجھے زندگی بھر نہ بھولے گا۔اس کے بعد میں دفتر میں تو جاتا ہوں مگر ابو العطاء نہیں ملتے۔( الفضل ۱۳ ستمبر ۱۹۷۷ء ) محترم پروفیسر عبدالجلیل صاحب ایم اے رقم فرماتے ہیں :- حضرت مولانا موصوف کے ساتھ مجھے صبح کی سیر کی سعادت حاصل ہوتی رہی ہے۔اس سیر کے دوران جہاں دیگر موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی تھی وہیں پر آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہلکا پھلکا مذاق بھی کرتے رہتے اور اس طرح سیر کے شرکاء کو محفوظ کرتے تھے۔تاہم ایک بات میں نے مولانا صاحب میں منفر د دیکھی وہ یہ کہ آپ مزاح کو دلکش اور خوشگوار رکھتے تھے۔دوسروں کو اس میں شریک فرماتے۔تمسخر یا تحقیر کے پہلو سے اجتناب فرماتے اور آپ کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ آپ Laugh at یعنی دوسروں پر ہنسنے کی بجائے Laugh with یعنی دوسروں کے ساتھ مل کر ہنسنے کے قائل تھے۔المختصر مولانا صاحب اپنی ذات میں ایک انجمن تھے اور ہر قسم کے لوگ آپ کی صحبت سے فیضیاب ہوا کرتے تھے۔