حیاتِ خالد — Page 782
حیات خالد 771 گلدستۂ سیرت کچھ ایسے تھے جو مکھیوں سے بچنے کیلئے نماز والی دریوں کے لیے کھس گئے۔میں بھی انہی لوگوں میں شامل تھا۔نئے کپڑوں کی پرواہ کئے بغیر دریوں کے نیچے تو چلا گیا لیکن اندر گرمی اور گرد سے برا حال ہو رہا تھا۔اگر سانس لینے کے لئے دری ذراسی او پر کرتا تو مکھیاں اندر آتیں اور اگر بند کرتا تو سانس لیتے وقت مٹی اندر آتی تھی۔خیر چند منٹ بمشکل گزارے کہ کسی نے میرا نام لے کر پوچھا کہ کہاں ہو۔میں نے دری کو ہلا کر اشارہ کیا تو چند خدام آئے اور مجھے کمبل میں لپیٹ کر اور ہاتھ پکڑ کر قادیان دارالامان پہنچا دیا۔مجھے بھی ایک دو کھیوں نے کاٹا لیکن پھر بھی خیر گذری۔بعض لوگوں کا تو بہت ہی بُرا حال ہوا۔حضرت ابا جان بھی اسی طرح کسی دوست کی مدد سے قادیان پہنچے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بالکل محفوظ رہے۔اس واقعہ نے اس عید کو نا قابل فراموش بنا دیا۔مکرم عبدالحکیم صاحب اکمل سابق مبلغ انچارج ہالینڈ لکھتے ہیں :- حضرت مولانا صاحب بہت زندہ دل اور محفل آرا تم کے انسان تھے۔صرف روکھے سوکھے عالم نہ تھے۔جامعہ احمدیہ احمد نگر میں ایک طالب علم مکرم قریشی فصیح الدین صاحب ہوا کرتے تھے۔ان کی اردو بہت اعلی تھی خوب موٹے موٹے الفاظ ان کی زبان پر رہے تھے۔دراصل وہ ڈکشنری دیکھ کر مشکل سے مشکل الفاظ اور مُقفی مسجع عبارتیں یاد کر کے استعمال کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ جلسہ سالانہ ربوہ میں ان کی ڈیوٹی برتن صفائی پر لگی۔تمام طالب علم انہیں مذاق کرنے لگے کہ یہ جلسہ سالانہ پر برتن صاف کیا کریں گے۔ہم چند دوست کھڑے اس ہنسی مذاق میں مصروف تھے کہ ہمارے پرنسپل صاحب یعنی حضرت مولانا ابوالعظا وصاحب تشریف لائے آپ چند لمحوں کے لئے ہمارے پاس ٹھہر گئے۔ہم نے مولانا موصوف کو بتایا کہ فصیح الدین صاحب کی ڈیوٹی برتن صاف کرنے پر لگی ہے۔آپ زیر لب مسکرائے اور ان کو مخاطب کر کے کہا فصیح الدین آپ کی ڈیوٹی کہاں لگی ہے؟ وہ چند لمحوں کے توقف کے بعد بولے ” جناب نظافت ظروف پر۔یہ سن کر ہم اور حضرت مولانا قہقہہ لگا کر ہے۔حضرت مولانا فرمانے لگے ” ان الفاظ سے تو یوں لگتا ہے کہ آپ کسی شعبہ کے ناظر لگ گئے ہیں۔یہ سن کر ہم سب ایک بار پھر ہنس پڑے۔مکرم شیخ محمد یونس صاحب شاہد مربی سلسلہ تحریر فرماتے ہیں:۔ایک دن خاکسار حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کے دولت خانہ پر ان سے ایک انٹرویو کرنے کے لئے حاضر ہوا۔دیکھا تو ایک اور دوست بھی فیض حاصل کرنے کی غرض سے تشریف فرما تھے۔میں