حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 784 of 923

حیاتِ خالد — Page 784

حیات خالد 773 گلدستۂ سیرت محترم حفیظ الرحمن صاحب سنوری مرحوم بتاتے ہیں :۔حضرت مولانا صاحب پر لطف باتیں بھی کرتے رہتے تا کہ طبیعت اچھی رہے۔اگر کوئی بات ہم بھول جاتے یا کوئی کام بھول جاتے تو سرزش کی بجائے فرماتے کہ گورنمنٹ ہمیں اس لئے ریٹائر کرتی ہے کہ ہم بوڑھے ہو کر باتیں بھول جاتے ہیں۔اس طرح مزاح میں بات ٹال دیتے۔مکرم منشی نورالدین صاحب خوشنویس رقم فرماتے ہیں :- حضرت مولانا کی طبیعت میں مزاح بھی تھا۔میں جب دارالرحمت غربی میں رہائش رکھتا تو ہر روز صبح نماز کے بعد سیر کا پروگرام ہوتا جس میں مکرم صوفی بشارت الرحمن صاحب، مکرم مسعود احمد خان صاحب دہلوی ایڈیٹر الفضل محمد رمضان حجام مرحوم اور چند دیگر احباب بھی سیر کو جاتے اور آتے وقت خوب لطائف اور طنز و مزاح کا دور چلتا اور مولانا اپنی پر مزاح باتوں سے اکثر اس سیر کو زعفران زار بنا۔دیتے۔جس سے ہم سب ساتھی بہت لطف لیتے۔مكرم عطاء المجیب صاحب را شد حضرت مولانا کی پُر مزاح طبیعت کے بارہ میں دو دلچسپ واقعات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- حضرت ابا جان بہت زندہ دل انسان تھے اور آپ میں خوش طبعی اور ظرافت کی صفت بہت نمایاں تھی۔لیکن ان سب مواقع پر آپ کا انداز ایسا ہوتا تھا کہ کسی کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے اور پر مزاح بات بھی بیان ہو جائے۔گھر کے ماحول میں بھی یہی کیفیت تھی۔آپ خود بھی لطائف سنایا کرتے تھے اور لطائف سنے کا بھی شوق تھا۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ ایک ایسی کتاب میرے ہاتھ لگی جس میں بہت عمدہ لطائف تھے۔بغیر کسی خاص اہتمام کے کچھ روز گھر میں یہ سلسلہ جاری رہا کہ دو پہر کے کھانے کے بعد اس میں سے چند لطائف سناتا تو ابا جان اور باقی سب افراد بہت محظوظ ہوتے۔اس کتاب کا نام تو اب مجھے یاد نہیں ہم نے بطور لطیفہ اس کا نام ”چورن“ رکھا ہوا تھا۔ربوہ کے ابتدائی دنوں میں ربوہ میں گنتی کے چند ٹانگے ہوا کرتے تھے۔حضرت ابا جان عام طور پر چوہدری محمد بوٹا صاحب آف دار الیمن کا ٹانگہ استعمال کرتے تھے اور وہ بھی بہت شوق اور محبت سے ہمیشہ اس خدمت کے لئے تیار رہتے تھے۔جب اور جہاں ضرورت ہوتی فوراً آ جاتے تھے۔ابا جان بھی ہمیشہ ان کو اجرت سے کچھ زا کر ہی دے دیا کرتے تھے۔کسی دعوت پر جاتے تو گھر والوں کو ان کے لئے کھانے کی تاکید کرتے تھے تا کہ وہ بھو کے نہ رہ جائیں۔عید میں اور خوشی کے دیگر مواقع پر بھی ان کو زائد