حیاتِ خالد — Page 763
حیات خالد 752 گلدستۂ سیرت ماریں گے اور قتل کر دیں گے۔حضرت مولوی صاحب نے جلسہ کروایا۔غیر احمدی احباب مہر عیسی صاحب ، ماسٹر غلام بھیک اور کئی دوست تشریف لائے۔چائے کا انتظام کیا گیا۔حضرت مولوی صاحب نے جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے اس سیاسی شخصیت سے کہا کہ آپ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ آپ نے یہ کہا ہے کہ اللہ یار کو ماریں گے اور قتل کر دیں گے۔انہوں نے کھڑے ہو کر انکار کر دیا کہ میں نے ایسا نہیں کہا۔حضرت مولوی صاحب نے کہا کہ بہتر طریق یہ ہونا چاہئے کہ اگر ہمارے احمدیوں کو آپ اپنے ساتھ ملالیں ہمیں کوئی غصہ نہ آئے نہ کوئی اعتراض ہو۔آپ کا کوئی غیر احمدی اگر احمدی ہو جائے تو آپ کو بھی کچھ غصہ نہ آئے نہ کوئی اعتراض ہو۔چنانچہ مخالفوں نے یہ بات تسلیم کی اور مخالفت کم ہو گئی۔کوئی بدامنی نہ ہوئی۔حضرت مولوی صاحب کا اتنا خدا داد رعب اور احترام تھا حضرت مولوی صاحب کا احترام کہ قیام احد نگر کے دوران میں نے دیکھا کہ جب آپ گھر سے نکل کر گلی میں آتے تو احمد نگر کے غیر احمدی احباب بھی کھڑے ہو کر آپ کو سلام کرتے۔محترم مسعود احمد خان صاحب سابق پروفیسر تعلیم الاسلام کا لج لکھتے ہیں :- ۱۹۴۹ء میں جب کہ گھانا ( اس زمانہ کا گولڈ کوسٹ ) جانے کے لئے میرا تقر ر ہو چکا تھا اور گھانا میں سیکنڈری سکول کے کھولے جانے کی تیاریاں مکمل ہونے کا انتظار تھا کہ جامعہ احمدیہ میں انگریزی کے ایک استاد کی ضرورت پڑی۔حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری ان دنوں جامعہ کے پرنسپل تھے۔آپ نے حضرت مولوی عبد المغنی خان صاحب وکیل التبشیر تحریک جدید کو خاکسار کے بارے میں تجویز کیا اگر اس کے جانے میں دیر ہے تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ سے درخواست کر کے ان کو عارضی طور پر جامعہ احمدیہ میں احمد نگر بھیج دیا جائے۔وہاں درجہ ثالثہ کی کلاس میٹرک انگریزی کی تیاری کر رہی ہے یہ اس کی مدد کر دیں۔اجازت ملنے پر میں وہاں چلا گیا اور تین چار ماہ کا عرصہ حضرت مولانا کی معیت میں جامعہ احمد یہ احمد نگر میں خدمات بجالانے کا شرف حاصل ہوا۔میں نے دیکھا کہ آپ بہت خلیق ہیں اور استاد رفقاء کے ساتھ آپ کا بہت مشفقانہ اور مربیانہ سلوک تھا۔وہ زمانہ بہت تنگی کا تھا اس میں ہر ایک کا خیال رکھنا کار دارد تھا۔لیکن حضرت مولانا کی سرکردگی کی برکت یہ تھی کہ سب لوگ وہاں ایک کنبہ کی طرح رو رہے تھے۔مارچ ۱۹۵۰ء میں میٹرک کے امتحان سے ایک ہفتہ قبل میں گھانا کے لئے روانہ ہو گیا۔جامعہ احمدیہ کے قیام کے دوران میں نے درجہ ثالثہ کے طلبہ کا ایک علمی