حیاتِ خالد — Page 762
حیات خالد کی خبر بھجوادی۔751 گلدستہ سب مکرم چوہدری ناصر احمد صاحب احمد نگر حضرت مولوی صاحب کے دوران قیام احمد نگر کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:۔سب سے مشکل کام با ایک دفعہ ایک ملنگ احمد نگر کے اڈہ پر جا رہا تھا۔اس نے بڑے بڑے ٹل باندھے ہوئے تھے۔میں نے کہا مولوی صاحب یہ کام بڑا آسان ہے فرمایا: نہیں۔یہ تو سب سے مشکل کام ہے۔سب کے آگے ہاتھ پھیلا نا بہت مشکل کام ہے۔حضرت مولوی صاحب کی خود داری کی بڑی خوبصورت جھلک اس واقعہ سے ملتی ہے۔احمد نگر کی مسجد میں صدارت کے معاملہ پر بحث ہو رہی تھی۔چند پارٹی بازی سے اجتناب افراد حضرت مولوی صاحب کی حمایت میں اٹھے اور کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، ہم یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے۔فرمایا بیٹھ جائیں اور پھر سختی سے کہا کہ پارٹی بازی نہ کریں۔گویا جماعتی وقار کے مقابل پر آپ کو کسی کی پر جوش حمایت بھی قبول نہ تھی۔احمد نگر میں تقریباً ۱۹۵۱ء یا شاید ۱۹۵۲ء کی بات ہے۔مسجد کی تعمیر مسجد کیلئے چندہ کی تحریک اندگی کے لئے چندہ اکٹھا نہیں ہوتا تھا کہ مسجد مکمل ہو جائے۔ایک دن حضرت مولوی صاحب نے مسجد کے لئے چندہ کی تحریک کی اور بڑے اچھے رنگ میں احباب کو توجہ دلائی۔اس وقت تنگی کا زمانہ تھا لوگوں کے پاس پیسے بھی نہیں ہوتے تھے۔چندہ کی تحریک ہوئی تو میں نے عہد کیا کہ میں سب سے بڑھ کر چندہ دوں گا۔لوگوں نے لکھوانا شروع کیا۔پانچ ، دس ہیں ، روپے۔جب لوگ چندہ لکھوا چکے تو میں نے عرض کیا ۲۵ روپے۔اس پر حضرت مولوی صاحب نے اعلان کیا کہ صاحب ! خیال کریں ناصر احمد نمبر لے گئے۔اس طریق سے لوگوں کا جذبہ قربانی بیدار ہو گیا اور لوگوں نے بڑھ چڑھ کر چندہ لکھوانا شروع کیا اور تھوڑی دیر میں ناقابل یقین طور پر پانچ ہزار روپے نقد ا کٹھے ہو گئے۔میرے ابا جی میاں ناظر دین صاحب نے مسجد احمد نگر کی تعمیر اپنی رضا کارانہ نگرانی میں کروائی۔خدا کا فضل ہوا۔مسجد مکمل ہو گئی تو لوگوں کا عام تاثر یہی تھا کہ خدا کا یہ گھر حضرت مولوی صاحب کی خاص جد و جہد کی وجہ سے مکمل ہوا۔فالحمد للہ احمد نگر میں ایک صاحب اللہ یار احمدی ہوئے۔بہت مخالفت حکمت سے مخالفت پر قابو پایا ہوئی۔ایک بارسوخ سیاسی شخصیت نے کہا کہ اللہ یار تجھے