حیاتِ خالد — Page 764
حیات خالد 753 گلدستۂ سیرت گروپ قائم کر کے طلبہ سے مضامین لکھوانے کا پروگرام بنایا۔اس کی میٹنگیں ہوتیں طلبہ مضامین پڑھتے ان پر تنقید ہوتی۔حضرت مولانا بہت خوش ہوئے اور میری الوداعی پارٹیوں میں سے ایک میں آپ نے میرے بارے میں فرمایا کہ یہ تھوڑے سے وقت میں طلبہ میں ہر دلعزیز ہو گئے اور طلبہ میں علمی ذوق بھی پیدا کر دیا۔ان طلبہ میں سے کئی صاحب قلم اور کتابوں کے مصنف بن گئے۔مثال کے طور پر شیخ محمد احمد صاحب پانی پتی مرحوم جنہوں نے عربی سے اردو ترجمہ کرنے میں پاکستان بھر میں نام پیدا کیا۔مکرم ملک محمد عبد اللہ صاحب سابق مینجر الفضل لکھتے ہیں :- ادارہ علمیہ احمد نگر ۱۹۵۰ء میں آپ ایک دفعہ لاہور تشریف لائے تو خاکسار کے ساتھ آپ نے ایک علمی ادارہ جاری کرنے کا پروگرام بنایا۔چنانچہ ادار و علمیہ احمد نگر ضلع جھنگ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا۔اس میں حضرت مولوی صاحب اور خاکسار کی شراکت تھی۔پروگرام یہ تھا کہ حضرت مولوی صاحب تالیف و تصنیف کا کام کریں گے اور میں لاہور میں طباعت کا انتظام کروں گا۔چنانچہ اس ادارہ کے ماتحت حضرت مولوی صاحب کی تحریر کردہ چند کتب مثلا البرهان، ختم نبوت کے متعلق ایک شیعہ عالم سے مناظرہ ، مقامات النساء فی احادیث سید الانبیا ہ شائع کی گئیں۔کچھ عرصہ کے بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا۔حضرت مولانا کو خواب میں دیکھا حضرت مولانا کی وفات کے بعد بہت سے احباب نے آپ کو خواب میں دیکھا۔یہ حضرت مولانا سے ان کی محبت اور تعلق کی ایک جھلک بھی ہے اور ان خوابوں سے حضرت مولانا کے مقام بلند کا پیہ بھی چلتا ہے۔پاک لوگوں کو خواب میں دیکھنا برکت کی علامت بھی ہے اور جماعت احمدیہ کے افراد کا اللہ تعالٰی سے تعلق کا ایک ثبوت بھی۔ذیل میں بعض احباب کی ان خوابوں کا تذکرہ ہے جن میں انہوں نے حضرت مولانا کو دیکھا۔یہ بڑا دلچسپ اور ایمان افروز تذکرہ ہے۔مکرم خواجہ عبد المؤمن صاحب حال اوسلو ناروے بیان کرتے ہیں :۔کچھ عرصہ ہوا، میں نے خواب میں حضرت مولانا کو دیکھا۔آپ اپنا مخصوص لباس چھڑی ، اچکن