حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 750 of 923

حیاتِ خالد — Page 750

حیات خالد 739 گلدستۂ سیرت حضرت مولانا ابو العطاء صاحب جالندھرتی پرنسپل جامعہ احمدیہ کھڑے ہیں۔پھر کیا تھا۔حجاب اور خجالت کی وجہ سے برا حال ہو گیا۔حضرت مولانا نے میری کیفیت فوراً بھانپ لی آپ نے مجھے اپنے پاس بلایا اور اپنے ساتھ لگایا اور فرمایا کہ شرماتے کا ہے کو ہو۔ایسی شرم رہنے دیں ، آپ کو مبلغ بننا ہے اور سینکڑوں ہزاروں کے مجمع میں تقاریر کرتا ہے۔میں کافی دیر سے یہاں کھڑا آپ کی تقریرین رہا تھا اور خوش ہو رہا تھا کہ میرا ایک شاگر د تقریر کی مشق کر رہا ہے۔اگر آپ نے یہ سلسلہ جاری رکھا تو انشاء اللہ بہت جلد آپ ایک اچھے مقرر بن جائیں گے۔اور بہت حوصلہ بڑھایا جو بعد میں میرے بہت کام آیا اور سینکڑوں کے مجمعے کے سامنے کھڑے ہو کر تقاریر کا موقع ملتا رہا۔حضرت مولا نا ہمیں تقاریر کی جو مشق کروایا کرتے تھے وہ عربی، اردو اور انگریزی میں ہوا کرتی تھیں۔یہ زمانہ حضرت مصلح موعودؓ کا بابرکت دور تھا۔بعض اوقات حضور نماز عصر کے بعد احباب میں رونق افروز ہو جاتے اور علم و عرفان کا دور چلنے لگتا۔ایک روز ایسا ہی ہوا کہ نماز عصر کے بعد حضور مسجد ☑ مبارک میں تشریف فرما ہوئے۔جامعہ کے طلباء اور حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب بھی حاضر تھے۔باتوں باتوں میں حضور حضرت مولانا سے مخاطب ہوئے اور دریافت فرمایا کہ جامعہ کے طلباء کو کس کس زبان میں تقریر کرنا سکھاتے ہیں؟ حضرت مولانا نے جواب دیا حضور! عربی، انگریزی اور اردو مینوں زبانوں میں نظاریر کی مشق کروائی جاتی ہے۔حضور نے فرمایا اچھا میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ طلبائے جامعہ عربی زبان میں کیسی تقریر کرتے ہیں اور اس کے لئے تجویز فرمایا کہ کل نماز عصر کے بعد میں بیٹھوں گا اور ایک طالب علم جامعہ عربی زبان میں تقریر کرے گا۔یہ طے ہونے کے بعد حضرت مولانا نے اگلے روز جامعہ احمدیہ میں ہماری کلاس کو بلایا جو اس وقت جامعتہ المبشرین کی آخری کلاس تھی اور فرمایا کہ حضور کی خواہش ہے کہ جامعتہ المبشرین کے طالب علموں کی تقریر عربی زبان میں سنیں نہ اس لئے کل عصر کے بعد تمام کلاس مسجد مبارک میں حاضر رہے اور طے پایا کہ ہماری کلاس کے سب سے ہونہار طالب علم برادرم محمود احمد مختار صاحب تقریر کریں گے۔آپ کل اس کے لائق طالب علم تھے۔اور تقریر وتحریر دونوں میں بہت مشاق تھے۔چنانچہ دوسرے روز عصر کے بعد ہم سب حاضر تھے۔حضور بھی نماز کے بعد ٹھہر گئے۔سردیوں کے دن تھے اور صحن میں باہر کے دروازہ کے قریب تھوڑی ہی دھوپ باقی تھی۔چنانچہ وہاں پر صفیں بچھائی گئیں اور ہم سب اور بعض دیگر احباب حضور کی معیت میں تقریر سننے کے لئے بیٹھ گئے۔برادرم مکرم محمود احمد مختار صاحب میر پوری نے