حیاتِ خالد — Page 749
حیات خالد 738 گلدستۂ سیرت بخش صاحب ناظم جائیداد کا نام خاص طور پر مجھے یاد ہے۔کئی ایک واقف زندگی نوجوان مولانا صاحب موصوف سے گہرے طور پر متاثر تھے اور آپ سے مستفید ہوا کرتے تھے۔مثلا مکرم خلیل احمد صاحب ناصر سابق مبلغ امریکہ اکثر اوقات نہایت دلچسپی سے آپ سے فیض حاصل کیا کرتے تھے۔مکرم سجاد احمد صاحب خالد لکھتے ہیں :- حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری کا وجود ایک قومی اور روحانی وجود تھا۔مرکزی انتظام کے تحت منعقدہ تعلیمی وتربیتی کلاسوں میں خاکسار نے آپ کے سامنے زانوائے تلمذ تہ کرنے کا شرف حاصل کیا۔بطور استادان کی یاد آج تک خاکسار کے دل میں موجود ہے۔خاکسار ان کا یہ جوش و جذ بہ کبھی نہیں بھولا کہ کسی طرح وہ اپنے مسلک کو واضح کرنے کے لئے پوری ترپ اور ہمدردی کے ساتھ بار بار حکیمانہ انداز سے سمجھانے کی کوشش کرتے۔ان کا یہ طریق اور یہ انداز ظاہر کرتا تھا کہ آپ کو اپنے شاگردوں سے گم ہی ہمدردی ہے اور آپ کو یہ تڑپ تھی کہ یہ بھی سلسلہ کے مفید وجود بنیں۔ان کا یہ طریق اس بات کی غمازی کرتا تھا کہ ان کے اندر سلسلہ کے لئے بڑی غیرت تھی۔کیونکہ خدا نہ کرے کہ کوئی احمدی کسی مخالف کے سامنے مدلل جواب نہ دے سکے اور سلسلہ کی بے عزتی کا موجب بن جائے۔اس میدان میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی روانی سے کلام کرنے کی طاقت عطا کی ہوئی تھی۔" محترم مولانا عبدالحکیم اکمل صاحب فرماتے ہیں:۔جامعہ احمدیہ کی طالب عملی کے زمانہ میں حضرت مولانا صاحب ہمیں تقاریر کی مشق کروایا کرتے تھے اور کلاس میں تقریر کا ایک پیریڈ رکھا ہوتا تھا۔ہر روز ایک طالب علم تقریر کیا کرتا تھا۔حضرت مولانا بذات خود کلاس میں تشریف رکھتے تھے۔چنانچہ ان تقاریر میں خاکسار کی باری بھی آگئی۔خاکسار نے جس روز تقریر کرنا تھی اس روز نماز فجر کے بعد خاکسار ربوہ میں منڈی (رحمت بازار) کی طرف گیا کیونکہ وہاں پر عمارت بنانے کے لئے اینٹوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے اور لوگوں کی آمد ورفت نہ تھی۔خاکسار وہاں اینٹوں کی ایک چھوٹی سی دیوار پر کھڑا ہو گیا اور سامنے پڑی ہوئی اینٹوں کو مخاطب کر کے اپنی تقریر کی مشق کرنے لگا اور خیال یہ تھا کہ جو حجاب لوگوں کی آمد ورفت سے ہوتا ہے وہ یہاں نہیں ہوگا کیونکہ کوئی بھی تو یہاں سے نہیں گزرتا تھا۔خاکسار کو اچھی طرح یاد ہے کہ میں قریباً ایک گھنٹہ تک تقریر کی مشق کرتا رہا۔تقریر ختم کر کے خاکسار نے جو نہیں پیچھے کی طرف رخ پھیرا تو کیا دیکھتا ہوں کہ