حیاتِ خالد — Page 751
حیات خالد 740 گلدسته سیرت تقریر کی۔ان کی تقریر بڑی اعلی تھی۔بڑی مشکل عربی زبان میں اور منطقی و مسجع عبارتیں استعمال کی گئی تھیں۔ان کی یہ کوشش تھی کہ حضور انور کو عربی زبان کا اعلیٰ معیار دکھایا جائے۔اپنی دانست میں ان کی محنت قابل داد تھی۔چنانچہ جب پانچ منٹ کی تقریر کے بعد وہ اپنی جگہ پر بیٹھے تو حضور اقدس نے فرمایا کہ تقریر تو بہت اچھی تھی مگر ایک مربی کے لئے اس قسم کی مشکل زبان استعمال کرنا مفید نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ زبان سوائے چند علماء کے عوام الناس نہ سمجھ سکیں گے اس لئے اس لحاظ سے یہ تجربہ کامیاب نہیں رہا۔اس پر مجلس برخاست ہوئی تو میں نے دیکھا کہ حضرت مولانا کچھ خاموش سے تھے اور اس تجربہ کی پوری کامیابی حاصل نہ ہونے سے خوش نہیں تھے۔اس پر آپ نے خاکسار کو بلایا اور فرمایا کہ کل تمہاری تقریر ہوگی۔اچھی طرح تیار ہو کر آنا خاکسار نے عرض کیا کہ بہت اچھا۔آپ دعا کریں۔اللہ مجھے کامیاب کرے۔چنانچہ دوسرے روز بھی اسی جگہ پر تھوڑی تھوڑی دھوپ میں نماز عصر کے بعد حضرت مصلح موعود تشریف فرما ہوئے۔حضرت مولانا ابو العطاء صاحب بھی آپ کے پاس خاموش بیٹھے تھے۔خاکسار کو تقریر کا حکم ہوا تو میں نے اٹھ کر پانچ منٹ تک قرآن کریم اور ہمارا فرض کے موضوع پر سلیس عربی میں تقریر کی۔تقریر کے بعد خاکسار بیٹھ گیا۔اب میں حضور کا تبصرہ سننے کے لئے بے چین تھا۔حضور پر نور نے فرمایا تقریر دونوں اعتبار سے بہت اچھی تھی زبان سلیس تھی اور گرائمر کی بھی کوئی غلطی نہیں تھی۔مجلس کی برخاستگی کے بعد حضرت مولانا نے مجھے اپنے پاس بلایا اور کھڑے کھڑے مجھے اپنے ساتھ لگا لیا۔خوشی کا اظہار فرمایا اور دعائیں دیں۔افسوس کہ اس مجلس کے بعد دوبارہ پھر ایسی کوئی مجلس نہ ہوسکی اور یہ اس لحاظ سے آخری تقریر ثابت ہوئی۔حضرت مولا نا بعد میں جب ملتے تو اس واقعہ کو دوہرا کر خاکسار کی حوصلہ افزائی کرتے اور بڑی خوشی کا اظہار فرماتے۔ایک بار جب آپ لندن تشریف لائے ہوئے تھے تو خاکسار ہالینڈ سے لندن مشن ہاؤس حاضر ہوا وہاں حضرت مولانا سے بھی ملاقات ہوئی آپ نے اٹھ کر اس عاجز کو معانقہ کا شرف بخشا اور فرمایا ” تم میرے شاگرد ہوا۔میں نے آپ کو ہالینڈ تشریف لانے کی دعوت دی مگر آپ نے فرمایا اب میری رخصت ختم ہو چکی ہے اور اس کے بعد واپس تشریف لے گئے۔۱۹۵۴ء کی بات ہے۔خاکسار اس وقت جامعۃ المبشرین میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔حضرت مولانا