حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 694 of 923

حیاتِ خالد — Page 694

حیات خالد 683 گلدستۂ سیرت لئے ان کی دلداری کے لئے اُن کے ہاں ضرور جاتے تھے تا کہ ان کو ڈھارس ہو اور اُن کے لئے بہت دعا کرتے تھے۔اکثر لوگ مولوی صاحب سے نکاح پڑھواتے تھے۔بعض دفعہ گھر پر ہی آجاتے اور کہتے کہ ہم نے آپ سے پڑھوانا ہے۔باہر سے آئے ہیں اور جلدی واپس جانا ہے۔بعض دو پہر کے وقت آ جاتے جو کہ آرام کا وقت ہوتا ہے مگر مولوی صاحب اُس وقت اُٹھ کرا چکن پگڑی وغیرہ پہن کر گھر میں بیٹھک میں ہی گری پر بیٹھ کر نکاح پڑھ دیا کرتے تھے۔انکار نہیں کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ کو بہت تیز بخار ہوا تو گھر میں کسی بچے نے باہر دروازہ پر چٹ لکھ کر لگادی کہ دروازہ نہ کھٹکھٹایا جائے۔مولوی صاحب جب باہر نکلے تو چیٹ دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور کہا ایسا بالکل نہ کریں۔کوئی ضرورت مند ہوتا ہے تو تب ہی آتا ہے۔بعض لوگ ایسے گھر میں پڑے رہتے ہیں کہ ان کو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔اس پر شکر کرو کہ ہم کسی کے کام آ سکیں۔مولوی صاحب کو اُن کے والدین نے پیدائش سے پہلے ہی وقف کر دیا تھا۔مولوی صاحب کے بچوں نے بھی وقف کی تحریک میں حصہ لیا اور تین بیٹیاں واقفین زندگی سے بیاہی گئیں۔اللہ کا شکر ہے کہ مولوی صاحب کے بیٹے ، بیٹیاں ، ہوئیں اور داماد سب اپنے اپنے رنگ میں دینی خدمات بجالا ر ہے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو دین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کی توفیق دے اور قبول فرمائے آمین۔مولوی صاحب نے بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ تم نے اور تمہارے بیٹوں نے وقف کیا ہے۔اس کے نتیجہ میں خدا انہیں بہت برکتیں دے گا۔سو ہم یہ نظارے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے سب کو بہت کچھ دیا ہے اور بے شمار فضلوں سے نوازا ہے۔الحمد للہ۔بچوں کی اصلاح اور دین داری کا بہت خیال تھا اور اُن کی تربیت کی طرف بہت دھیان رکھتے تھے۔کوئی بچہ اگر دیر سے گھر آتا تو باز پرس کرتے تھے۔گرمیوں کی چھٹیوں میں بچے گھر پر ہی ہوتے تو کھیل کود میں مصروف رہتے۔آپ نے یہ طریق جاری کیا کہ انہیں کہتے کہ آپس میں مل کر جلسہ میٹنگ وغیرہ بھی کیا کرو۔با وجود مصروفیت کے خود بیٹھ کر سب بچوں کو اکٹھا کر کے بلکہ ہمسائیوں کے بچوں کو بھی بلوا لیتے اور جلسہ کرواتے کسی سے تلاوت کراتے کسی سے نظم پڑھواتے اور کسی کو مضمون پڑھنے کے لئے کہتے اور کسی کو تقریر کے لئے کہتے اور بعد میں سب کو انعام ٹافیاں وغیرہ بھی دیتے۔اس پر بچے بہت ہی خوش ہوتے۔اُن میں خوب جوش پیدا ہو جاتا۔آپ سیر با قاعدہ کرتے تھے۔صبح کی نماز کے بعد کچھ دوست بھی آپ کے ساتھ چلے جاتے تھے۔