حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 693 of 923

حیاتِ خالد — Page 693

حیات خالد 682 گلدستۂ سیرت پارٹیشن کے بعد کا واقعہ ہے کہ ایک بھائی (عطاء المنان ) نے پاکستان میں آکر میٹرک کا امتحان دیا۔اس کے بعد وہ ملازم ہو گیا۔اس کی شادی کا فکر تھا۔آخر رشتہ طے ہو گیا تو اُسے شادی کے لئے بلا یا۔مولوی صاحب نے اُسے کہا کہ لاؤ کچھ کما کر لائے ہو، تاکہ تمہاری شادی کریں۔بھائی نے کہا کہ آپ نے مجھے بلایا ہے تو میں آ گیا ہوں اب سب کام آپ نے ہی کرنے ہیں۔چنانچہ مولوی صاحب نے ہی سب کام سر انجام دیئے۔اس کی برات پشاور جانی تھی تو اپنے کچھ دوست بھی ساتھ لے گئے۔راستہ میں ایک دوست کی پگڑی اچھی نہ تھی تو مولوی صاحب نے کہا کہ پگڑی بدل لیں۔انہوں نے کہا کہ اور کوئی نہیں۔تو مولوی صاحب نے راستہ میں ٹھہر کر ایک دکان سے پگڑی خریدی اور کلف وغیرہ لگوا کر اُن کو دے دی۔اسی طرح پارٹیشن کے بعد کچھ حالات ایسے تھے کہ بچے کی پڑھائی کی مشکلات تھیں۔ربوہ میں کالج نہیں تھا اور بیٹے کو لاہور داخل کرنا تھا۔اس وجہ سے آپ نے ایک چٹھی قرضہ حسنہ کے لئے دفتر کو لکھی۔عین اُس وقت ایک غریب لڑکا آیا اور اُس نے کہا کہ میری فیس معافی کی درخواست لکھ دیں۔چنانچہ مولوی صاحب نے اپنی درخواست تو پھاڑ ڈالی اور اُس کی طرف سے فیس معافی کی درخواست لکھ دی اور میٹرک کی کتابیں خود اسے لے دیں۔اس کی دعا سے میرے بیٹے کے لئے بھی خدا نے بہتر انتظام کر دیا۔الحمد للہ۔ہمارے ہمسائے میں ایک یتیم بچی رہتی تھی۔اس کی شادی پر مولوی صاحب نے ایک بڑی پیٹی بستروں کے لئے خرید کر دی تھی۔یہ احمد نگر کا واقعہ ہے۔مولوی صاحب جب کوئی نئی چیز پہنتے یعنی بوٹ، چکن، کلاه وغیرہ تو بعض بے تکلف دوست اُن سے کہتے کہ آپ مستعمل ہمیں دے دیں۔چنانچہ بڑی خوشی سے ان کو دے دیتے تھے۔وہ بھی بڑے خوش ہوتے تھے۔میری شادی پر میرے والد صاحب نے مولوی صاحب کے لئے ایک چھڑی ہاتھ کی بھیرہ سے بنوائی تھی۔اس کے اوپر نام بڑا خوبصورت لکھوایا تھا۔وہ چھڑی مولوی صاحب کو بڑی پسند تھی۔جب آپ فلسطین سے واپس آنے لگے تو وہاں کے ایک دوست نے نشانی کے طور پر فرمائش کی تو آپ نے خوشی سے دے دی۔ویسے بھی اکثر دوستوں کو دیتے رہتے تھے۔دوست بھی اکثر مانگ لیتے تھے۔ایک بڑی خوبی اُن کی یہ تھی کہ جہاں کہیں لڑکی والوں کی طرف سے شادی میں ان کو بلایا جاتا تو ضرور جاتے تھے اور کہتے تھے کہ رخصتی کے وقت لڑکی والوں کے جذبات بہت حساس ہوتے ہیں۔اس