حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 695 of 923

حیاتِ خالد — Page 695

حیات خالد 684 گلدستۂ سیرت پھر آہستہ آہستہ سیر کی پارٹی بن گئی۔جب سیر سے واپس آتے تو بسا اوقات سب کو اپنے گھر لاتے اور چائے پلاتے تھے پھر سب اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے۔وفات سے دو روز پہلے جب سیر کر کے گھر آئے تو بہت تھکے ہوئے تھے۔میں نے کہا کہ آپ لمبی سیر نہ کیا کریں ذرا تھوڑی کر لیا کریں۔اُس روز جمعہ تھا۔چنانچہ نہا دھو کر جمعہ پڑھ کر گھر آئے۔طبیعت ویسے ٹھیک تھی ذرا کمزوری تھی۔اگلے دن صبح ناشتہ نہ کیا اور کہنے لگے کہ میں نے آج ہسپتال جاتا ہے اور ایکسرے کرانا ہے۔اور مجھے بھی کہا کہ تم بھی چلو۔میں نے کہا کہ مجھے تو آپ کی فکر ہے۔میری خیر ہے گزارہ ہو رہا ہے تو کہنے لگے کہ شاید پھر موقعہ ملے یا نہ ملے۔میری بیٹیاں پاس کھڑی تھیں کہنے لگیں کہ امی جان آپ بھی ابا جان کے ساتھ چلی جائیں پھر آپ نے نہیں جانا۔چنانچہ میں بھی ساتھ چلی گئی۔اُن دنوں مجھے گھٹنوں میں بہت درد ہوتا تھا اور چلنے میں بہت تکلیف ہوتی تھی۔تھوڑی دیر کے بعد چودھری فضل احمد صاحب کار لے کر آگئے اور ہم ہسپتال چلے گئے۔وہاں جا کر پہلے اپنا ایکسرے کرایا اور پھر میرا کرایا اور کار میں آکر بیٹھ گئے۔مئی کا مہینہ تھا ا گرمی بہت تھی۔میں نے کہا کہ میں آپ کو پانی لادوں تو کہنے لگے چودھری صاحب گھر ہی چلیں۔چنانچہ جب گھر پہنچے تو عزیز عطاء الحجیب کی بیوی قانتہ کو میں نے کہا کہ جلدی سے گھڑے کے پانی میں گلوکوز ڈال کر لائیں۔چنانچہ وہ لائیں تو صرف ایک گھونٹ ہی پیا تھا کہ خون کی بڑی زبر دست تے آئی۔خون آلود کپڑوں کا ڈھیر لگ گیا۔اُسی رات آپ کی وفات ہو گئی۔ساری رات بے چین رہے مگر منہ سے ایک کلمہ بھی بے صبری کا نہیں کہا۔تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد سیون اپ کا ایک ایک چمچہ پیتے تھے۔ایک بجے کے قریب خود ہی اٹھے اور ساتھ غسل خانے میں جا کر پیشاب کیا اور آتے ہی چار پائی پر لیٹ گئے اور کہا اللہ اور پھر تے آئی اور بے ہوش ہو گئے اور اسی بے ہوشی میں ہی ہم سب کو چھوڑ کر اپنے پیارے مولا کے پاس حاضر ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اب میں اسی پر اکتفاء کرتی ہوں اور سب پڑھنے والوں سے درخواست دعا کرتی ہوں کہ خدا مجھے اور ہمارے سارے خاندان کو مولوی صاحب کے نقش قدم پر چلائے اور ہم سب کا انجام بخیر کرے اور میری اولادکو ہمیشہ ہی سلسلہ کی خدمت کرنے کی توفیق عطا کرے۔آمین۔