حیاتِ خالد

by Other Authors

Page 688 of 923

حیاتِ خالد — Page 688

حیات خالد 677 گلدستۂ سیرت سے بکر اذبح کیا تھا تو حضور کے ہاتھوں کو خون لگ گیا تو مولوی صاحب نے اپنا رومال جیب سے نکال کر پیش کیا۔چنانچہ اُس سے حضور نے ہاتھ صاف کیے تھے۔حضور پر جب مسجد مبارک میں دشمن نے وار کیا تھا اس وقت حضور مولوی صاحب کے ساتھ کندھے پر ہاتھ رکھ کر سہارا لے کر قصر خلافت تک گئے تھے۔اس وقت حضور کے خون سے آپ کی اچکن اور پگڑی بھی بابرکت ہو گئی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ کو مولوی صاحب سے بڑی محبت تھی۔مولوی صاحب جب کبھی اپنے ہاں دعوت پر بلاتے تو انکار نہیں فرماتے تھے۔حضور کا ہمارے ہاں آنا اتنا با برکت ہوتا کہ تنگی کے بعد فراخی کے سامان ہو جاتے تھے۔اس لیے مولوی صاحب جلد جلد حضور کو اپنے ہاں بلانے کی فرمائش کرتے رہتے تھے۔ایک دفعہ آپ سے اپنے بیٹے عطاء الرحمن اور بھائی عبد المنان کی قاعدہ سرنا القرآن کی بسم اللہ بھی کروائی تھی۔ایک دفعہ بیٹا عطاءالرحیم بیمار تھا تو حضور سے درخواست کی تو حضور جھٹ دیکھنے کے لئے تشریف لے آئے۔بچے کو تیز بخار تھا۔حضور دیکھ کر جب گئے تو دیکھا کہ بخار بالکل اُتر گیا تھا۔الحمد للہ۔حضرت خلیہ اسح الثالث سے خلافت سے پہلے بھی بہت دوستی تھی اور پھر بعد میں تو اور بھی زیادہ گہرا تعلق ہو گیا تھا۔انتخاب خلافت کے بعد ان کی خلافت کا اعلان لاؤڈ سپیکر پر مولوی صاحب نے ہی کیا تھا۔اسی طرح حضرت مرزا طاہر احمد صاحب سے بھی بہت دوستی تھی۔وفات سے ایک دن پہلے بھی جب وہ ہسپتال سے گھر آئے تھے تو آتے ہی خون کی قے آئی تو اس دوران دفتر کی طرف سے بلاوا آیا کہ تقسیم گندم کی کمیٹی ہورہی ہے آپ آئیں تو آپ نے پیغام دیا کہ میری یہ حالت ہے میں تو نہیں آ سکتا۔چنانچہ اُسی وقت مرزا طاہر احمد صاحب نے دوائی بھجوائی۔اسی رات مولوی صاحب کی وفات ہوگئی۔اگلے روز حضرت مرزا طاہر احمد صاحب صبح سے لے کر تدفین تک ساتھ ہی رہے۔یہ اُن کا خلافت سے پہلے کا تعلق ہے۔بعد میں حضور رحمہ اللہ تعالیٰ اُن کی اولاد سے بہت پیار کرتے رہے۔ہم احمد نگر میں رہتے تھے اور احمد نگر کے قریب ہی حضرت مصلح موعود کا باغ تھا۔حضور کبھی کبھی میر کے لیے جایا کرتے تھے۔ایک دفعہ سیر کے لئے آئے تو مولوی صاحب بھی ساتھ ہی تھے۔واپسی پر جب احمد نگر کے قریب آئے تو مولوی صاحب نے حضور سے درخواست کی کہ ربوہ پہنچنے تک تو عصر کی نماز کا وقت تنگ ہو جائے گا آپ احمد نگر میں ہی عصر کی نماز پڑھ کر جائیں۔چنانچہ حضور راضی ہو گئے اور عصر کی نماز احمد نگر میں پڑھائی۔اس وقت ابھی وہاں کی مسجد بھی نامکمل تھی۔حضور نے دعا کی۔اب وہاں شاندار مسجد بن گئی ہے۔حضور کے ساتھ حضور کی بیگم صاحبہ ام ناصر بھی تھیں۔وہ ہمارے گھر